خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 147 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 147

خطابات مریم 147 خطابات آپ کو عزم کر لینا چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو ان احکام آداب و اخلاق کا پابند بنائیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ اسلامی شریعت کے دو حصے ہیں ایک وہ احکام جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی سے ہے ان کو ہم عبادات کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔دوسرے وہ احکام جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ ہے ان کو ہم اخلاق کے نام سے پکارتے ہیں۔کامل مومن وہی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بجا آوری بھی صحیح طور پر کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی بجا آوری بھی صحیح طور پر کرے۔ایک انسان نمازیں تو رو رو کر پڑھے، روزے بھی سارے رمضان کے رکھے لیکن کسی کی حق تلفی کرے، ظلم کرے، بداخلاقی سے پیش آئے وہ مومن نہیں کہلا سکتا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام ایک قلیل عرصہ میں آپ کے اعلیٰ اخلاق غریب امیر سب سے یکساں سلوک ، دشمنوں سے عفو کا سلوک ، صلہ رحمی ، ہمدردی ، پڑوسیوں کے حقوق کی حفاظت انسان کو انسان سمجھنے اور اس کی عزت کرنے کی وجہ سے پھیلا۔دنیا مجبور ہو گئی اسلام کے آگے سر جھکانے پر کہ اخلاق کی جو تعلیم اسلام نے دی وہ کسی مذہب نے نہیں دی اور جو عملی نمونہ مسلمانوں نے دکھایا وہ کسی اور قوم نے نہیں دکھایا اور اس عملی نمونہ کا ہی نتیجہ تھا کہ مسلمان بہت تھوڑے وقت میں ساری معلوم دنیا پر چھا گئے اور ہر براعظم میں انہوں نے دنیا کو درس انسانیت دیا۔آج جو ترقی یافتہ قومیں کہلاتی ہیں اور اخلاق اخلاق کے نعرے لگاتی ہیں خواہ خود اس پر عمل نہ کریں۔سب خوشہ چیں ہیں اسلام کی تعلیم کے۔مسلمان جس جس ملک میں گئے وہاں کے رہنے والوں کو اخلاق سکھائے ، مساوات کی تعلیم دی ، عزت نفس کی تعلیم دی ، ان کی خود داری کو بلند کیا لیکن آہستہ آہستہ جب قرآن پڑھنا چھوڑا اس پر عمل کرنا بھی چھوڑ دیا۔حضرت مہدی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے احیاء دین کیلئے بھیجا ہے تا کہ ان گم گشتہ اخلاق اور نیکیوں کو جن کی تعلیم اسلام نے دی لیکن عملاً ان پر عمل نہیں ہوتا تھا پھر سے قائم کر یں۔جس طرح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی تعریف میں تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ کے الفاظ بیان فرمائے ہیں کہ ہر وہ نیکی اور خوبی جو دنیا سے کھوگئی تھی آپ اس کو خود کر کے پھر سے قائم کر رہے ہیں۔