خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 145 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 145

خطابات مریم 145 خطابات سلسلہ میں بھی کوشش کریں کہ ناخواندہ مستورات اور بچیوں کو اردولکھنا پڑھنا سکھائیں۔پھر کالجوں اور سکولوں میں جو احمدی طالبات پڑھ رہی ہیں وہ اپنی گرمیوں کی تعطیلات کے زمانہ میں خواہ کہیں بھی وہ چھٹیاں گزاریں اس سلسلہ میں کوشش کریں کہ عورتوں اور بچیوں کو جو ناظرہ نہیں جانتیں ان کو ناظرہ اور جو اردو لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں اُن کو اُردو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اگر ہم ایک سال میں ستر فی صد احمدی مستورات اور بچوں کو بھی پڑھنا لکھنا سکھا دیتے ہیں تو یقیناً یہ آپ کا ایک کارنامہ ہوگا اور چھوٹی بچیوں یعنی ناصرات کی عمر کی تو ایک فی صد بھی ایسی نہیں ہونی چاہئے جواُردولکھنا پڑھنا نہ جانتی ہو۔اُردو لکھنے پڑھنے کے علاوہ زبانی آپ ان کو تمام شریعت کے احکام سکھائیں خصوصاً وہ احکام جن کا معاشرہ اور اخلاق سے تعلق ہے اور جو ہماری زبان میں آداب کہلاتے ہیں۔گزشتہ سال حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اسلامی آداب و اخلاق کی اہمیت کو قرآن مجید احادیث نبویہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں واضح فرمایا اور اسلامی آداب واخلاق کو جلد سے جلد مدون کر کے بچوں اور نئی نسل کو انہیں سکھانے اور ان پر عمل کرانے کیلئے عظیم تربیتی جہاد کا اعلان فرمایا اور احباب جماعت کو نصیحت فرمائی تھی کہ وہ اس تربیتی اور عملی جہاد میں حصہ لینے کے لئے اپنی کمریں کس لیں اور کوشش کریں کہ جماعت احمدیہ کا ہر حصہ اور ہر طبقہ اسلامی آداب و اخلاق کے مختلف مدارج اور ان کی جزئیات سے جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہیں۔اچھی طرح واقف ہو اور ان پر عمل کرنے والا ہوتا کہ ہما را عملی نمونہ غلبہ اسلام کے اس دن کو قریب سے قریب تر لانے کا موجب بنے جب کہ ساری دنیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔(الفضل 29 دسمبر 1975ء) حضرت خلیفۃ امسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس عظیم تر بیتی جہاد کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔انسان کو خدا تعالیٰ نے جو مختلف جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتیں دی ہیں ان کے بارے میں ہمیں تفصیلی ہدایات دیتا ہے پہلے وہ اپنے ماننے والے کو وحشیانہ