خطابات مریم (جلد دوم) — Page 119
خطابات مریم 119 خطابات افسوس کہ چودہ سو سال کے بعد مسلمان ان اخلاق کو بھول گئے جن کا سبق محمد رسول اللہ ﷺ نے اُن کو دیا اور دوسری اقوام نے اُن اخلاق کو اپنا لیا۔چودہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں کی دستگیری کی اور مخلوق پر رحم فرمایا اور اپنا مامور ہماری اصلاح کے لئے مبعوث فرمایا۔یہ غلط خیال ہے کہ انسان کے اگر اخلاق بگڑ جائیں تو وہ اُن کے بدلنے پر قادر نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔لِكُلّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْت جس طرح ظاہری امراض کا علاج ہو سکتا ہے روحانی امراض کا علاج بھی ہو سکتا ہے۔شرط صرف کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔إنَّ اللهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12) یعنی اللہ تعالیٰ بھی کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اُس بُرائی کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنا (العنكبوت : 70 ) کوشش کرنے والا آخر منزل مقصود کو پالیتا ہے۔پس ہمیں بھی چاہئے کہ اپنی دینی ، روحانی اور اخلاقی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے اتنی ترقی کریں کہ ساری دنیا کیلئے شمع ہدایت بن جائیں۔اپنی اصلاح کریں ، اپنی اولا دوں کی تربیت کریں انہیں علم دین سکھائیں اور سچے مسلمان بنا ئیں۔اسلام کے شیدائی بنا ئیں دین کیلئے زندگیاں وقف کرنے والے بنائیں تا احمدیت کی فتح کا دن جلد سے جلد قریب آ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالی کے وعدے یقینی ہیں یہ ہمارا کام ہے کہ ہم جلد سے جلد اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنیں۔سچائی بہر حال پھیلنی ہے اور پھیل کر رہے گی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود فرماتے ہیں کہ اگر یہ سوال ہے کہ تم نے آ کر کیا بنایا۔ہم کچھ نہیں کہہ سکتے دنیا کو خود معلوم ہو جائے گا کہ کیا بنا یا ہاں اتنا ہم ضرور کہتے ہیں کہ لوگ آکر ہمارے پاس تو بہ کرتے ہیں۔ان میں انکسار اور فروتنی پیدا ہوتی ہے اور رذائل دور ہو کر اخلاق فاضلہ آنے لگتے ہیں اور سبزے کی طرح آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں اور اپنے اخلاق و عادات میں ترقی کرنے لگتے ہیں۔انسان ایک دم ہی ترقی نہیں کر لیتا بلکہ دنیا میں قانون قدرت یہی ہے کہ ہر شئے تدریجی طور پر ترقی کرتی ہے اس سلسلے سے باہر کوئی شئے ہو