خطابات مریم (جلد دوم) — Page 120
خطابات مریم 120 خطابات ہی نہیں سکتی ہاں ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ سچائی پھیلے گی اور پاک تبدیلی ہوگی۔یہ میرا کام نہیں بلکہ خدا کا کام ہے اُس نے ارادہ کیا ہے۔یہ پاکیزگی پھیلے۔دنیا کی حالت مسخ ہو چکی ہے اُسے کیڑا لگا ہوا ہے پوست ہی پوست باقی ہے مغز نہیں رہا۔مگر خدا نے چاہا ہے کہ انسان پاک ہو جائے اُس پر کوئی داغ نہ رہے اس واسطے اُس نے محض اپنے فضل سے یہ سلسلہ قائم کیا ہے۔پس دنیا کے لئے نمونہ بننے کے لئے ہمیں دو باتوں کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پہلی یہ کہ اپنے لباس و گفتار کا خیال رکھیں۔شیریں گفتار ہوں ہماری بات چیت سے دوسرے متاثر ہوں۔اپنا نقطہ نظر دوسروں کے سامنے پیش کرنا جس کے لئے گہرے دینی علم کی ضرورت ہے۔اپنی وضع سے دوسروں کو متاثر کرنا اور اس سلسلے میں اپنے لباس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسلام یہ نہیں سکھاتا کہ فلاں لباس پہنو فلاں نہ پہنو بلکہ عریاں لباس پہننے سے منع فرماتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو ایمان کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔آج کل کی لڑکیاں اور عور تیں بھی عریانی کی رو میں بہہ گئیں ہیں۔اس قسم کا لباس جو جسم کی نمائش کرتا ہو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایمان کے ایک حصے کی محرومی کا باعث ہے۔آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث بھی پڑھی ہوگی جو آپ نے آخری زمانے کے متعلق بطور پیشگوئی فرمائی کہ آخری زمانے میں ایسی عورتیں ہونگی جنہوں نے بظا ہر لباس پہنا ہو گا لیکن ننگی ہوں گی۔ایسی عورتوں پر آپ نے لعنت فرمائی ہے۔پس اپنی چال ڈھال اور لباس کو ایسا بنانا چاہئے جو شریعت اسلام کے خلاف نہ ہو۔منہ سے ہم دعوی کریں اسلام کی طرف لانے کا اور عمل کریں مغرب کی پیروی کا۔ان متضاد باتوں سے ہم دنیا کو جیت نہیں سکتے۔اس کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس بھی بہت ضروری ہے۔عبادت پر زور دیں ، نوافل پر زور دیں ، ذکر الہی کریں۔اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کریں ، رسوم چھوڑ میں خصوصاً ایسی رسوم جن میں وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے اور پیسے کا بھی ضیاع ہوتا ہے اور جن کا کوئی نتیجہ آخر میں نہیں نکلتا۔یادرکھیں آپ مقناطیس بنے بغیر لوہے کو نہیں کھینچ سکتیں اپنے اندر ایسا جذب پیدا کریں کہ غیر خود آپ کے نمونے سے متاثر ہو کر کھنچتے چلے آئیں پھر آپس میں محبت ہو ایک دوسرے کی دلداری ہو ،حسن سلوک ہو، غریب پروری ہو ، اخوت ہو تمام بنی نوع انسان کیلئے شفقت ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام