خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 118 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 118

خطابات مریم 118 خطابات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات کا ہمیں پوری طرح علم ہوتا آپ کے ہر قول اور فعل کی پیروی کر سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لٹریچر بکثرت پڑھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس رنگ میں ، جس محبت سے ، جس عشق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پیش کیا ہے اُس کے پڑھنے کے بعد ناممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی کو عشق اور محبت نہ پیدا ہو۔ہمیں چاہئے کہ اُٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے دنیا کے کام کرتے ہر وقت اس بات کو مدنظر رکھیں کہ ہمارا کوئی فعل ہماری کوئی حرکت قرآن مجید کی تعلیم کے خلاف نہ ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے منافی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا ظہور اس دنیا میں آنحضرت ﷺ کے ذریعے ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنا بڑا درجہ عطا فرمایا کہ ساری دنیا کیلئے حکم صادر فرما دیا کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران 32) کہ اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا چاہتے ہو ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو، خدا تعالیٰ سے اپنی محبت کا ثبوت دینا چاہتے ہو تو ثبوت کے طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو۔آپ کے اخلاق اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اُس سے محبت کرے گا۔گویا محبت الہی کی شرط قیامت تک کے لئے اطاعت رسول پر ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ اطاعت سے باہر رہ کر اب کوئی خدا تعالیٰ کی محبت حاصل نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( الاحزاب :22) محمد رسول اللہ کے طور طریقے سیکھو ، آپ کے اخلاق سیکھو۔ایک کامل نمونہ تمہارے سامنے ہے قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کے حکم پر عمل کیا اور اپنے آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ بنانے کی کوشش کی۔جو ملک فتح کیا جہاں گئے وہاں درس اخلاق دیا۔ایک نئی تہذیب اور نئے تمدن کی بنیاد ڈالی۔آج یورپین اقوام اخلاق اخلاق کا شور مچاتی ہیں اور ظاہر یہ کرتی ہیں کہ یہ اخلاق کی تعلیم دنیا اُن سے حاصل کر رہی ہے اُنہوں نے یہ اخلاق کہاں سے سیکھے۔مسلمانوں نے فتوحات پر فتوحات کیں۔یونان ، روم، اسپین، افریقہ ان سب جگہوں پر حکومتیں قائم کیں اپنے اخلاق سے دنیا کو زیرنگیں کیا۔جس ملک کو فتح کر کے وہاں سے جاتے تھے وہاں کے لوگ اُن کے لئے آنسو بہاتے تھے۔موجودہ مغربی اقوام نے مسلمانوں سے درس اخلاق لیا لیکن