خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 91 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 91

خطابات مریم 91 خطابات لجنات اماء اللہ کے فرائض اور اُن کی اہم ذمہ داریاں افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 1973ء) میں لجنہ اماء اللہ کے سولہویں سالانہ اجتماع پر تمام آنے والی بہنوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں سلامتی کا تحفہ پیش کرتی ہوں۔اللہ تعالیٰ مرکز سلسلہ میں ان کا آنا مبارک کرے اور جس مقصد کے لئے وہ یہاں جمع ہوئی ہیں وہ مقصد احسن طریق سے پورا ہو۔ہمارا یہ اجتماع کوئی میلہ تماشا نہیں کوئی سیاسی اجتماع کے اغراض و مقاصد اجتماع نہیں۔بلکہ اس کی غرض محض مستورات کی دینی تربیت ہے۔ابتدائے اسلام میں دین سیکھنے کی غرض سے دور دراز سے چند لوگوں کا وفد آ جا تا تھا۔وہ اسلام کے اصول سیکھتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت سے مستفیض ہوتے اور واپس جا کر اپنے شہر یا گاؤں کے لوگوں کو وہ کچھ سکھاتے جو خود سیکھ کر جاتے۔اس مقصد کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ومَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَةً، فَلَوْلا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةً ليتفقهوا في الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا الَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (التوبة: 122) فرمایا:۔اور مومنوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ سب کے سب (اکٹھے ہو کر تعلیم دین کیلئے ) نکل پڑیں۔پس کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین پوری طرح سیکھتے اور اپنی قوم کو واپس لوٹ کر ہشیار کرتے تا کہ وہ ڈرنے لگیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ ان کا مقدم فرض دین سیکھنا ہے یہ