خطابات مریم (جلد دوم) — Page 92
خطابات مریم 92 42 خطابات ممکن ہی نہیں کہ ہر قصبہ اور گاؤں سے سب کے سب مرد اور عورتیں مرکز میں جا کر دین سیکھیں اس کا واحد طریق یہی ہے کہ سارے شہر قصبہ یا گاؤں سے چند لوگ مرکز میں جائیں وہیں دین سیکھیں اور واپس جا کر اپنے لوگوں کو وہ کچھ سکھائیں جو وہ خود سیکھ کر آئے ہیں اور جن باتوں سے بچنا چاہئے ان سے بچنے اور ہشیار رہنے کی تلقین کریں جن باتوں پر عمل کرنا چاہئے ان کو کرنے کی تلقین کریں مرکز میں چند دن گزار کر جو نیک اثر اپنی ذات پر ہوا سے پیچھے سب رہنے والوں میں بھی منتقل کرنے کی کوشش کریں۔پس لجنہ اماءاللہ کے اجتماع پر بھی نمائندگان کے آنے کی یہی غرض ہے۔اس لحاظ سے ان پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ان کی لجنات نے انہیں نمائندہ بنا کر بھجوایا ہے۔اس لئے وہ اب پابند ہیں یہاں کے پروگراموں کے ایک ایک منٹ کی ان کو چاہئے کہ پورا پروگرام سنیں ضروری نوٹس ہدایات کے لیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے پُر معارف خطاب کو توجہ سے سنیں جو بہنیں نوٹ لے سکتی ہیں وہ نوٹ بھی لیں اور واپس جا کر اس بات کا انتظار نہ کریں کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریر اخبار میں شائع ہو تو اسے پڑھ کر آپ اس پر عمل کریں یا کروائیں بلکہ بہنیں غور سے سنیں جا کر اپنی ممبرات کو سنا ئیں اس طریق پر کہ سب پیچھے رہنے والی بہنوں کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے آقا نے ہمیں کیا ارشادفرمایا اور ہم اس پر عمل کریں۔عموماً نمائندگان اپنی اس اہم ذمہ داری کا احساس نہیں کرتیں جس کے نتیجہ میں آنے والے سال کا جو لائحہ عمل یہاں پیش کیا جاتا ہے۔اس پر فوری طور پر عمل ہونا نہیں شروع ہوتا۔پس نمائندگان کو سا را پروگرام خاموشی اور سکون سے سننا چاہئے کوئی بات سمجھ نہ آئے تو پوچھ سکتی ہیں اپنے ساتھ جن بچیوں کو لاتی ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ سارا پروگرام سننے پر مجبور کریں وہ صرف تقریری مقابلوں میں حصہ نہیں لینے آتیں بلکہ یہاں سے سیکھنے اور کچھ حاصل کرنے بھی آتی ہیں۔وہ بھی اپنی عمر کی بچیوں کی نمائندہ ہوتی ہیں جن تک سب باتیں اُنہوں نے پہنچانی ہونگیں۔اجتماع میں ہر لجنہ کی نمائندگی ضروری ہے ہمارے سالانہ اجتماع منعقد کرنے ہے کا ارشاد حضرت مصلح موعود نے 27 / دسمبر 1944ء کو اپنی جلسہ سالانہ کی مستورات میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا۔