خطابات مریم (جلد دوم) — Page 89
خطابات مریم 99 89 خطابات ذریعہ ہوسکتا ہے۔پس میری بچیو! قرآن پڑھنے کی طرف پوری توجہ دو۔ایک بھی احمدی بچی ایسی نہیں ہونی چاہئے جو ناظرہ قرآن صحیح نہ پڑھتی ہو۔اگر تم اُردو انگریزی اور دوسری زبانیں بچپن میں سیکھ سکتی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ صحت سے قرآن مجید پڑھنا اور تلاوت کرنا نہ سیکھ سکو۔پھر جوں جوں بڑی ہوتی جاؤ۔نماز سیکھو نماز کے محض الفاظ یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جب تک تمہیں معلوم نہ ہو کہ تم نماز میں اپنے رب سے کیا مانگ رہی ہو۔نماز کا ترجمہ یاد کرو جب نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تو تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنا شروع کرو۔احمدیت کی تاریخ سے واقف ہو اپنے عقائد دلائل کے ساتھ آنے چاہئیں۔اگر یہ سب باتیں تم سیکھ لو تو پھر تم اس قابل ہوسکتی ہو کہ احمدیت کے لئے قربانی دے سکو۔بغیر علم کے عمل ممکن نہیں اور ایمان کو تازہ رکھنے کے لئے عمل بہت ضروری ہے۔جس طرح پھول کے پودے کو زندہ رکھنے کیلئے بار بار پانی دینے کی ضرورت ہے اسی طرح ایمان کو زندہ رکھنے کیلئے بار بار قربانیوں کی ضرورت ہے۔یہ قربانیاں وقت کی بھی ہوسکتی ہیں مال کی بھی ہوسکتی ہیں۔بُری عادتیں چھوڑ کر نیک اخلاق اور نیک عادتیں اختیار کرنے کی صورت میں بھی ہوسکتی ہیں۔احمدیت میں آنے والی کئی نسلیں قربانی پر قربانی دیتی چلی آئی ہیں۔اب تمہارا زمانہ ہے اس وقت احمدیت کو ضرورت ہے تمہاری قربانیوں کی۔پس خود دین سیکھوتا بڑی ہو کر دوسروں کو سکھا سکو۔کفایت اور سادگی کی عادت ڈالو تا احمدیت کی ترقی کی خاطر چندے دے سکو۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی عادت ڈالو اور سب سے بڑھ کر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جذبہ پیدا کر و۔آپ کی اطاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت آنحضرت علﷺ کی اطاعت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔آپ کے ہر ارشاد کی تعمیل کی بچپن سے عادت ڈالو اور اسی کو عبادت سمجھو۔یا د رکھو کہ تمہاری ترقی خلافت کے قدموں سے وابستہ ہے۔لغویات سے پر ہیز کرو ہمیشہ اچھی صحبت میں بیٹھو۔صفائی کی عادت ڈالو۔جسم اور کپڑے صاف ہوں تو دل میں بھی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔سچ کی عادت ڈالو تکبر اور غرور کو پاس نہ پھٹکنے دو۔ہر ایک کی ہر صلى الله