خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 70 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 70

خطابات مریم 70 تحریرات ہوگی اور ایسے قائم مقام پیدا نہیں کئے ہوں گے جو دین اور تقویٰ سے متاثر ہوں تو مردوں کی تمام کوششیں اکارت چلی جائیں گی۔پس عورت کی ذمہ داری مرد سے کم نہیں“۔(الازھار حصہ دوم صفحہ 96) غرض ناصرات الاحمدیہ کا قیام اس لئے کیا گیا تا اگلی نسل کی ذمہ داریاں اُٹھانے کیلئے چھوٹی عمر سے ہی بچیوں کو تیار کیا جائے ان کے دلوں میں مذہب سے محبت پیدا کی جائے اعلیٰ اخلاق ان میں پیدا کئے جائیں نیکی بدی کا فرق ان کو بتایا جائے آئندہ پڑے والی ذمہ داریوں کا احساس ان میں پیدا کیا جائے۔یہی غرض ناصرات الاحمدیہ کے قیام کی ہے۔دیکھا جائے تو ناصرات الاحمدیہ کی تربیت کرنا لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں سے اہم ترین کام ہے جس کی طرف توجہ دینا ہر احمدی خاتون کا فرض ہے۔بے شک عہدہ داران لجنات اپنی پوری کوشش اس سلسلے میں کر رہی ہیں لیکن اصل ذمہ داری ماؤں کی ہے جن کے پاس ان کا زیادہ وقت گزرتا ہے۔اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گی تو اپنے ماحول اور اپنے سکول سے وہ وہ باتیں سیکھیں گی جو ہماری اقدار اور ہماری روایات کے خلاف ہیں۔پس احمدی بچیوں کو جنہوں نے اگلی نسل کی مائیں بننا ہے۔بچپن سے ہی دینی تعلیم دیں پہلے قرآن کریم ناظرہ پڑھائیں پھر ترجمہ سکھائیں یا سکھانے کا انتظام کریں۔اللہ تعالیٰ سے پیار پیدا کریں آنحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا تذکرہ کر کے آپ کی محبت ان کے دلوں میں پیدا کر یں۔اگر آپ یہ عہد کریں کہ اگلی نسل کو پہلوں سے زیادہ دیندار بنانا ہے تو شیطان کا کوئی تسلط آپ کی نسل پر نہیں ہو سکتا۔اس زمانہ میں شیطان کا حملہ نت نئی شکلوں میں ہو رہا ہے۔کہیں آزادی نسواں کے غلط علمبرداروں کے ذریعہ ، کہیں بے پردگی کے ذریعہ ، کہیں ننگے لباسوں کے ذریعہ، کہیں بیہودہ فلمیں دیکھنے کے ذریعہ کہ ان باتوں کے ذریعہ دین سے بے رغبتی ہو اور دنیا کی بظاہر چکا چوند کرنے والی چیزوں کی طرف رغبت ہو۔ہماری جماعت کا مقصد دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے نہ کہ دنیا کو دین پر۔پس بہت ضرورت ہے کہ اپنی بچیوں کو باقاعدگی سے ناصرات کے اجلاسوں میں بھیجا کریں۔پندرہ سال سے بڑی ہو جائیں تو لجنہ اماءاللہ کے اجلاسوں میں۔