خطابات مریم (جلد دوم) — Page 69
خطابات مریم 69 69 تحریرات ناصرات الاحمدیہ ہمارا مستقبل 1922 ء میں حضرت فضل عمر نے احمدی عورتوں کی تنظیم لجنہ اماءاللہ کا قیام فرمایا۔آپ اس یقین پر پوری طرح قائم تھے کہ کسی قوم کی ترقی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک اس قوم کی عورتیں بھی مردوں کے ساتھ مل کر اس کی ترقی میں حصہ لیں اور اس غرض کے لئے عورتوں کا تعلیم یا فتہ ہونا بہت ضروری ہے۔آپ امام جماعت احمد یہ ہونے کے بعد اس کوشش میں لگے رہے کہ عورتوں میں تعلیم پھیلے۔انہیں یہ شعور حاصل ہو کہ اُنہوں نے قوم کے لئے کچھ کرنا ہے۔ان کے دلوں میں جذبہ پیدا ہو وہ قوم کا ایک مفید فرد بن سکیں۔چنانچہ آپ نے ان کی تعلیم کیلئے سکول کالج جاری فرمائے۔مدرستہ الخواتین بڑی عمر کی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کیلئے جاری کیا۔دینیات کلاسز جاری فرمائیں۔عورتوں میں درس دیتے رہے۔مختلف مواقع پر ان سے خطاب فرمائے اور ان کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے رہے۔جب ایک حد تک ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو گیا تو آپ نے ان کو اس طرف توجہ دلائی کہ اگر وہ اپنی قربانیوں کو ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنا چاہتی ہیں تو اپنی اولاد کی اعلیٰ تربیت کریں اور یہی جذبہ ناصرات الاحمدیہ کے قیام کا باعث بنا۔جس کا با قاعدہ قیام 1945ء میں ہوا۔گواس سے قبل قادیان میں بھی اور کئی اور شہروں میں ناصرات الاحمدیہ، خادمات الاحمدیہ، بنات الاحمدیہ کے نام سے بچیاں کام کر رہی تھیں آپ نے اپنی ایک تقریر میں عورتوں کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔”ماں کی تربیت ایک نہایت اہم چیز ہے مرد کا کام موجودہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے۔عورت کا کام آئندہ زمانہ کی اصلاح کرنا ہے۔یہ صاف ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی۔بیشک موجودہ کام مرد کرتے ہیں لیکن وہ آئندہ دور کی تعمیر کرتی ہیں۔اگر عورتوں نے آئندہ نسل کی صحیح تربیت نہیں کی