خطابات مریم (جلد دوم) — Page 501
خطابات مریم آپ نے فرمایا :۔501 اجلاس ضلعی صدرات 26/اکتوبر 1987ء خطابات آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حالات اس سے زیادہ بھی بگڑ سکتے ہیں۔آپ نے کام کرنا ہے اور کسی قیمت پر کام نہیں چھوڑنا۔رپورٹ فارم میں یا نہ ملیں ، پروگرام ملے یا نہ ملے، بجٹ فارم ملیں یا نہ ملیں اتنے عرصہ سے لجنہ قائم ہے آپ کو مقاصد معلوم ہیں آپ نے پہلے سے زیادہ تندہی سے کام کرنا ہے اور اپنی تنظیم کو کمزور نہیں ہونے دینا۔آپ کی دعاؤں پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا آپ کے عمل پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔دینی علم حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔خود زیادہ سے زیادہ دینی علم سیکھیں ، بہنوں کو سکھائیں، بچیوں کو سکھائیں، تعلیمی پروگرام اگر کسی وقت مرکز سے نہ بھجوایا جا سکے تو خود بتا ئیں اصل مقصد تو قرآن وحدیث کی تعلیم اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب کا پڑھنا ہے۔فطری اصولوں کے مطابق تربیت پر کون پابندی لگا سکتا ہے۔قرآن کی تعلیم پر عمل نہیں قرآن کے مطابق نمونہ نہیں تو لجنہ کی تنظیم یا ممبر بننے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔موجودہ حالات میں زیادہ سے زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے۔قرآن مجید کی تعلیم اور اُسوہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر چلنے کی ضرورت ہے۔اعلیٰ اخلاق اپنانے اور اتحاد کی بہت ضرورت ہے۔بھول جائیں لڑائی جھگڑوں کو ، آپس کے اختلاف کو اور رنجشوں کو اور محبت کے ساتھ اپنی اپنی بجنات میں محبت ، اخلاص، اتحاد اور تعاون با ہمی کی روح کو قائم کریں تربیت کیلئے انفرادی کوشش شروع کریں بجائے تقریر میں کرنے کے۔حضرت بانی سلسلہ ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں:۔” خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کیلئے اور اپنی قدرت دکھانے کیلئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الہی اور تو بہ نصوح اور پاکیزگی