خطابات مریم (جلد دوم) — Page 500
خطابات مریم 500 خطابات آنے والی نسل اپنی ذمہ داریوں کو بہتر رنگ میں پورا کر سکے۔پھر فرمایا کہ: آپس کے اختلافات ختم کر کے متحد ہو کر کام کریں تو بڑے سے بڑا دشمن بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ایک دوسرے کو کام کیلئے اُبھاریں خدا اور خدا کے رسول کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملیں۔گھریلو جھگڑے ہماری ترقی کی راہ میں روک نہیں بننے چاہئیں۔ہم نے تو اُس وقت تک قربانیاں دیتے ہی چلے جانا ہے جس وقت کی ہمیں بشارت دی گئی ہے۔ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سے زیادہ بہتر اور مخلص اولا د چھوڑ کر جائے۔خدام واطفال کی ترقی بھی دراصل خواتین کی ہی صحیح تربیت سے وابستہ ہے۔اولاد ہمیشہ وہی کچھ سیکھتی ہے جو والدین کا نمونہ دیکھتی ہے۔بچوں کو سلسلہ کی تعلیم دیں۔جماعت کیلئے مجسم قربانی بن جائیں۔داعی الی اللہ بنیں۔عجز وانکساری اختیار کرتے ہوئے تمام وہ راہیں اختیار کریں جن سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔خدا فرماتا ہے کہ میں اور میرا رسول ہی ہمیشہ غالب آئینگے۔خدا کی تقدیر کبھی بدل نہیں سکتی۔خواہ کتنی ہی تکالیف، تنگیاں اور آزمائشیں آئیں صحیح نمونہ ، اعلیٰ اخلاق ، اور خدمت خلق ہمارا شعار ہونا چاہیے ہمارا کردار دوسروں کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دے کہ در حقیقت یہ ہی سچے مسلمان ہیں۔اُسوہ رسول اور اُسوہ صحابہ اپنا لیں تو ہمیں کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی“۔ماہنامہ مصباح دسمبر 1987ء)