خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 179 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 179

خطابات مریم 179 خطابات احیاء تھا جن کی دلی تڑپ صرف اور صرف یہ تھی کہ ع اس دیں کی شان و شوکت یا رب مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے پ نے جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ کے حضور درد دل سے دعائیں کیں کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب فرما وہاں دلائل قاطعہ کے ساتھ ایک طرف عیسائیت کا مقابلہ کیا دوسری طرف آریوں کو شکست دی۔دہریہ اور فلسفی خیالات رکھنے والوں کا توڑ کیا یہاں تک کہ احمدیت کے قیام سے صرف پانچ سال بعد ہی 1894ء میں پادریوں کی ایک کانفرنس میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ اسلام میں ایک نئی حرکت کے آثار نمایاں ہیں۔ہر میدان میں قرآن مجید کے دلائل کے ساتھ آپ نے ایسی علمی جنگ لڑی کہ مد مقابل آنے والا گھبرانے لگا اور وہ لوگ جو اسلام کی ترقی سے مایوس ہونے لگے تھے ان کے دلوں میں بھی امید کی کرنیں پھوٹنے لگیں۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں ایک ایک کر کے فدائی اور محبت کرنے والے جمع ہونے لگے یہاں تک کہ آپ کے وصال کے بعد ہندوستان کے بڑے بڑے مذہبی لیڈروں نے آپ کی اسلام کے لئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔آپ کی آواز ہندوستان سے نکل کر دوسرے ممالک میں پہنچی اور اٹھاسی سال کے عرصہ میں ہر دن جو چڑھا اور ہر رات جو آئی اس نے تصدیق کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعویٰ میں سچے تھے کون کہہ سکتا تھا کہ وہ آواز جو قادیان کی گمنام بستی سے اُٹھی تھی وہ دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے گی اور ایشیا امریکہ یورپ افریقہ اور جزائر کے رہنے والے آپ پر درود و سلام بھیجیں گے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے برطانیہ، یورپ، امریکہ، مشرقی و مغربی افریقہ، جزائر کون سا ملک ہے جہاں احمدی موجود نہیں۔بہت قربانی دینے والے، اسلام سے عشق رکھنے والے، اسلام کا درد رکھنے والے اور آپ کی صداقت کا زندہ ثبوت آج ہم اپنی آنکھوں سے ان بہنوں بھائیوں کے زندہ وجودوں سے دیکھ رہے ہیں جو دور دراز کا سفر کر کے اس جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے آئے ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ