خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 180 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 180

خطابات مریم 180 خطابات دنیا کا یہ دستور ہے اور پہلے بھی تاریخ نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ جوں جوں نبی کے زمانہ سے بعد ہوتا جاتا ہے انسانی طبائع میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔عمل میں کمزوری آ جاتی ہے جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی آنکھ سے دیکھا آپ کی صحبت پائی آپ کی باتیں سنیں ان کی تو شان ہی اور تھی بعض نے اپنی جان کی قربانی دی جیسے شاہ عبداللطیف صاحب کا آخری لمحہ تک ایمان متزلزل نہ ہوا۔بعض نے اپنے مکان بیچ دیئے وطنوں عزیزوں کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں رہنے کو دنیا کمانے پر ترجیح دی۔بہت سے ایسے تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک آواز پر اپنا سارا مال و دولت لا کر آپ کے قدموں میں ڈال دیا۔وہ دور گزر گیا بہت کم صحابہ اب باقی ہیں۔آپ میں سے اکثر وہ ہیں جنہوں نے احمدیت کی نعمت کو ورثہ میں پایا۔اس نعمت کو حاصل کرنے کے لئے انہیں کوئی قربانی دینی نہیں پڑی۔اللہ تعالیٰ کا کتنا عظیم الشان فضل اور احسان ہے جماعت احمدیہ پر کہ خلافت احمد یہ کے ذریعہ اس نے ان برکات کو جماعت میں جاری رکھا جن کا وعدہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ سے کیا تھا اور جب تک جماعت احمد یہ خلافت کی قدر کرتی رہے گی اور اپنی اطاعت شعاری ، وفاداری اور قربانیوں کے ذریعہ اپنے کو اس انعام کا حق دار ثابت کرتی رہے گی ان برکات سے فائدہ بھی اُٹھائے گی اور ان انعامات کی بھی وارث ہوگی جن کی بشارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا تھا کہ : جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں۔(روحانی خزائن جلد 15 مسیح ہندوستان میں صفحہ 11) آپ کا یہ ارشاد قرآن مجید کی اس آیت کی تفسیر ہے۔كتب الله إليكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمتِ إلى النُّورِة بإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (سورۃ ابراہیم : 2 ) ترجمہ: یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر اس لئے اُتارا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے