خطابات مریم (جلد دوم) — Page 178
خطابات مریم 178 اس تاریکی کے زمانہ کا نور میں ہی ہوں جو شخص میری پیروی کرتا ہے وہ ان گڑھوں اور خندقوں سے بچایا جائے گا جو شیطان نے تاریکی میں چلنے والوں کے لئے تیار کئے ہیں مجھے اس نے بھیجا ہے کہ تا میں امن اور حلم کے ساتھ دنیا کو سچے خدا کی طرف رہبری کروں اور اسلام میں اخلاقی حالتوں کو دوبارہ قائم کروں“۔خطابات (روحانی خزائن جلد 15 مسیح ہندوستان میں صفحہ 11) آئیے ہم جائزہ لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے وقت اسلام اور مسلمان کس آزمائشی دور میں سے گزر رہے تھے اور تین ربع صدی میں آپ کی بعثت کا مقصد کس شان سے پورا ہوا۔اللہ تعالیٰ کی آخری اور کامل شریعت اور الہی قانون مکمل صورت میں وادی بطحا میں سرتاج اولین و آخرین فخر الانبیاء والمرسلین حضرت محمد مصطفی عملے کے مقدس ترین وجود پر نازل ہوا اور د رہتی دنیا تک اسی نے رہنا ہے۔اس تعلیم میں ایسی کشش تھی کہ لوگ اس کی طرف کھنچتے چلے گئے اور اسلام ساری دنیا پر غالب آ گیا لیکن بعد میں خود مسلمانوں کی سرد مہری اور بے تو جہگی سے وہ تعلیم تو باقی رہی مگر صرف قرآن مجید کے الفاظ میں مسلمانوں کا عمل اس پر سے جاتا رہا۔اخلاقیات کی جو اعلی ترین تعلیم اسلام نے دی تھی وہ صرف اصولوں کی شکل میں رہ گئی مسلمانوں کا اس سے دُور کا واسطہ بھی نہ رہا۔روحانیت باقی نہ رہی۔اسلام پر ہر طرف سے حملے ہونے شروع ہو گئے اور مختلف مذاہب نے اسلام کو اپنا شکار سمجھ کر مسلمانوں کو اسلام سے بد دل کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرنے شروع کئے جس کے نتیجہ میں کثرت سے مسلمانوں نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی۔جنہوں نے مذہب نہیں چھوڑا وہ بھی مذہب سے دُور جا پڑے اور متنفر ہو گئے۔سب سے بڑا حملہ اسلام پر عیسائیت کا تھا اور عیسائی اس سلسلہ میں اتنے پر امید تھے کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ نعوذ باللہ مکہ مدینہ کی فتح کے خواب دیکھنے لگے۔ہندومت، آریہ مذہب، برہمو سماج، فلسفہ، دہریت ان سب نے مشترکہ طور پر اسلام پر حملے کئے۔غرض جس طرف نظر اٹھتی تھی تاریکی ہی تاریکی تھی اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔اس زمانہ میں جو ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت ہوئی جن کی بعثت کا مقصد اسلام کا