خطابات مریم (جلد دوم) — Page 408
خطابات مریم 408 خطابات اصحاب نے مجھے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ شادیوں کے موقعوں پر ابھی تک ہماری جماعت میں بہت سی رسوم ادا کی جاتی ہیں دور سموں کے متعلق تو جماعت احمدیہ کی مجلس شوری فیصلہ کر چکی ہے وہ نقص کہیں نظر آئے تو ان کی فوری رپورٹ کرنی چاہئے۔ایک تو یہ کہ لڑکے والوں کے گھر سے لڑکی کے گھر مہندی لے کر نہیں جانا۔حضرت مصلح موعود نے منع فرمایا ہے اور پھر شوری نے اُسے منظور کیا۔لڑکی کو مہندی ضرور لگائیں مگر لڑکے والے لڑکی کے گھر مہندی لے کر نہ جائیں۔دوسرے لڑکی والے لڑکے کے رشتہ داروں کو جوڑے نہ دیں جب منع کیا جاتا ہے تو لڑکی والے کہتے ہیں کہ لڑکے والے مطالبہ کرتے ہیں۔انتہائی شرم کی بات ہے خدا تعالیٰ نے مرد کو قوام بنایا ہے لڑکے نے لڑکی کے لئے گھر بنانا ہوتا ہے نہ کہ لڑکی کے ساتھ ان کے گھر والوں کے لئے جوڑے آئیں سالہا سال سے اس لئے کوشش ہو رہی ہے مگر ابھی تک شہروں سے بھی اور دیہات سے بھی ان واقعات کی اطلاع ملتی رہتی ہے۔لجنات کا کام تربیت کرنا ہے ہر گھر کے متعلق جائزہ لینا ہے اور ان کو بتانا ہے کہ آپ غلطی کر رہی ہیں خلیفہ وقت نے اس اس بات سے روکا ہے۔ہماری ترقی میں یہ چھوٹے چھوٹے نقائص حائل رہیں گے جب تک ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے۔یاد رکھیں اطاعت اور اتحاد میں ہی طاقت ہے پیار محبت سے ایک دوسرے کے قصوروں کو معاف کرتے ہوئے اسلام کی ترقی کے لئے کام کریں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَلا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ (الانفال: 47) اور آپس میں اختلاف نہ کیا کرو اگر ایسا کرو گے تو دل چھوڑ بیٹھو گے اور تمہاری طاقت جاتی رہے گی اور صبر کرتے رہو۔اللہ یقیناً صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ہم سب نے مل کر اسلام کی فتح کے لئے کوشش کرنی ہے اور قربانیاں دینی ہیں وہ قربانیاں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذیل کے الفاظ میں کیا ہے آپ فرماتے ہیں۔سچائی کی فتح ہوگی اور اسلام کے لئے پھر اس تازگی اور روشنی کا دن آئے گا جو