خطابات مریم (جلد دوم) — Page 407
خطابات مریم 407 خطابات کوخصوصاً اس طرف توجہ دلاتی ہوں کہ وہ اپنی بچیوں کی صحیح تربیت کریں۔وہ خود یا ان کی بیٹیاں یا بہوئیں پاکستان سے باہر جائیں تو جاتے ہی دوسروں کی نقل میں اپنی اقدار کو ترک نہ کریں۔خدا تعالیٰ تو آپ کو موقع دیتا ہے وہاں جا کر معلم بنے کا اور دوسروں کے لئے نمونہ بننے کا اور آپ کا یہ حال کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔الہی بشارتوں کے مطابق اگلی صدی انشاء اللہ غلبہ اسلام کی صدی ہے ہر جگہ اسلام کی طرف لوگوں کا رجوع ہو رہا ہے نئے نئے لوگ اسلام میں داخل ہور ہے ہیں آپ نے ان کا استاد بننا ہے آپ نے ان کو دین سکھانا ہے آپ نے ان کے لئے نمونہ بننا ہے اس لئے آپ کی بھی بہت تربیت کی ضرورت ہے تا آپ اپنی بچیوں کی تربیت کر سکیں۔موم کی ناک نہ بنیں بلکہ عزم اور استقلال کی پتلیاں بنیں جن کو بڑے سے بڑا طوفان بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹا سکے۔بعض جگہ میں نے عہد یداران سے بعض بچیوں کے متعلق پوچھا کہ فلاں فلاں بچی پڑھی لکھی ہے اس سے کام لیں اس پر مجھے جواب ملا کہ لجنہ مرکزیہ کا فیصلہ ہے کہ بے پردہ کو عہدہ نہیں دینا۔یہ پردہ نہیں کرتیں اور ان کے جواب سے میرا سر شرم سے جھک گیا۔کیونکہ ان میں کئی ایسی تھی جو ربوہ سے تعلیم حاصل کر کے گئی ہوتی ہیں۔ماں باپ کا بھی فرض ہے کہ اپنی بچیوں کی اعلیٰ تربیت کریں ان کے کیریکٹر کو مضبوط کریں ان میں امام کی اطاعت اور غیرت دینی کا جذبہ پیدا کریں تا جب ان کی شادیاں ہوں تو قوم کا ستون بنیں۔شعبہ تربیت کی طرف سے تربیت کے سلسلہ میں فولڈرز شائع کر کے تقسیم کئے گئے اور رسومات کے متعلق میری ایک تقریر جو پہلے شائع ہو چکی ہے مزید اضافہ جات کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔کئی جگہ مجھ سے یہاں بھی اور باہر بھی بہنوں کی طرف سے وہی سوالات کئے گئے جن کے جوابات تفصیل سے میں نے اس کتابچہ میں دیئے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ لجنات نے کم تعداد میں کتاب لی ہے اور اگر لی ہے تو بہنوں اور بچیوں نے پڑھی نہیں۔تمام لجنات کوشش کریں کہ ہر پڑھی لکھی عورت اسے پڑھے اور دیہات میں صدر میں سبق کے طور پر اجلاسوں میں پڑھ کر سنا ئیں اور پھر نظر رکھیں جائزہ لیتی رہیں کہ جن باتوں سے روکا گیا ہے اس سے بہنیں رک گئیں یا نہیں جو خط دوران سال مجھے ملتے رہتے ہیں ان میں جماعت کے کئی