خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 342 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 342

خطابات مریم 342 خطابات کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے خدا کی قسم اگر میری ساری اولا داور اولاد کی اولا داور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دیئے جائیں اور خود میرے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور میں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔پس اے میرے آسمانی آقا تو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلاء عظیم سے نجات بخش “۔ترجمه عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام صفحہ 15) آپ کا سارا کلام نظم ہے یا نثر اردو میں ہے یا فارسی یا عربی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت اور فدائیت کے جذبات سے بھرا پڑا ہے۔آپ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی دلیل ہی یہ دیتے ہیں کہ ان کے عاشق بن جاؤ۔اگر خواہی دلیلے عاشقش باش محمد ئبر ہان محمد آپ کا مندرجہ ذیل اقتباس ہی ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کتنا بلند مقام تھا ایسی تعریف تو چودہ سو سال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی نے نہیں کی جتنی آپ نے کی ،فرماتے ہیں۔وو وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو وہ ملائک میں نہیں تھا نجوم میں نہیں تھا۔قمر میں نہیں تھا۔آفتاب میں بھی نہیں تھا۔وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔وہ لعل اور یا قوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔غرض وہ کسی چیز ارضی اور سماوی میں نہیں تھا صرف انسان میں تھا یعنی انسان کامل میں۔جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولی سید الانبیاء سید الا حیاء