خطابات مریم (جلد دوم) — Page 341
خطابات مریم اختیار کریں۔341 خطابات آپ کا تو دعوی ہی یہ تھا کہ آپ نے جو کچھ حاصل کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اور آپ کے فیض سے حاصل کیا آپ فرماتے ہیں :۔تیرے منہ کی ہی قسم اے میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں اک شہر بسایا ہم نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی روایت ہے کہ میں نے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے جو حضرت مسیح موعود کے سب سے بڑے بیٹے تھے اس وقت جب کہ ابھی انہوں نے احمدیت کو قبول نہیں کیا تھا حضرت مسیح موعود کے ابتدائی زمانہ کے اخلاق و عادات کے متعلق دریافت کیا آپ نے فرمایا:۔ایک بات میں نے والد صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود ) میں خاص طور پر یہ دیکھی ہے وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف والد صاحب ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ذراسی بات بھی کہتا تھا تو والد صاحب کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا اور غصے سے آنکھیں متغیر ہونے لگتی تھیں اور فوراً ایسی مجلس سے اُٹھ کر چلے جاتے تھے۔(سیرت المہدی حصہ اوّل) آئینہ کمالات اسلام میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔عیسائی مشنریوں نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے شمار بہتان گھڑے ہیں اور اپنے اس دجل کے ذریعہ ایک خلق کثیر کو گمراہ کر کے رکھ دیا ہے میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھانے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتے رہتے ہیں ان کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات والا صفات کے خلاف