خطابات مریم (جلد دوم) — Page 343
خطابات مریم 343 خطابات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں“۔(روحانی خزائن جلد 5 آئینہ کمالات اسلام صفحہ 160) دنیا ہم پر یہ الزام لگاتی ہے کہ احمدی نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت ﷺ سے بڑا درجہ دیتے ہیں لیکن خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس عشق کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی آل و اولاد اور آپکے صحابہ کے ساتھ بھی بے انتہا محبت تھی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے باغ میں ایک چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے آپ نے حضرت نواب مبارکہ بیگم اور مبارک احمد مرحوم کو جو اس وقت سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے سے فرمایا :۔"آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں پھر آپ نے بڑے دردناک انداز میں حضرت امام حسین کی شہادت کے واقعات سنائے آپ یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اس دردناک کہانی کو ختم کرنے کے بعد آپ نے بڑے درد سے فرمایا۔یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم ﷺ کے نواسے پر کروایا مگر خدا نے بھی ان ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑ لیا“۔آپ کی سیرت کا تیسرا پہلو اسلام کی ترقی اور غلبہ کی شدید ترپ حضرت مسیح موعود کی بعثت کا مقصد جیسا کہ خود آپ کو بھی الہا ماً بتایا گیا۔يُحي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة تھا کہ آپ کے ذریعہ اسلام کے باغ میں پھر سے بہار آئے اور شریعت محمدی جو آخری شریعت ہے اس کا پھر سے دنیا میں قیام ہو اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے اس مقصد کے لئے آپ کی ساری زندگی وقف رہی دعاؤں کے ذریعہ سے بھی اور