خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 238 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 238

خطابات مریم 238 خطابات چند وفات یافته مخلص ہستیوں کا ذکر ، کارگزاری کا جائزہ ، اہم نصائح اور ہدایات افتتاحی خطاب سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکز یہ 1980ء) آج دعاؤں کے ساتھ ہم اپنے بیسویں سالانہ اجتماع کا آغاز کر رہے ہیں کہ یہ تربیتی اجتماع بہت بابرکت اور اپنی اغراض کو پورا کرنے والا ہو لجنہ اماءاللہ کے قیام پر اس سال 58 سال گزر جائیں گے یہ ایک طویل عرصہ ہے۔جن چودہ بہنوں نے لجنہ کی بنیا د رکھی تھی ان میں سے اب صرف دو زندہ ہیں۔سالِ رواں میں ممبرات لجنہ اماء اللہ کو اپنی چند مخلص ہستیوں کا صدمہ اُٹھانا پڑا۔صاحبزادی امتہ السلام بیگم جو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی پہلی پوتی تھیں اور جنہوں نے آپ سے برکت پائی تھی گو وہ ابتدائی ممبرات میں سے تو نہیں تھیں مگر لجنہ اماءاللہ کے کاموں سے دلچسپی رکھتی تھیں۔کراچی کے اپنے لمبے قیام میں انہوں نے عملاً لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں حصہ لیا۔کراچی کی خواتین کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دی لاہور کے قیام میں بھی لجنہ اماء اللہ کے کاموں میں دلچسپی لیتی رہیں۔پھر استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی وفات ہوئی جو ابتدائی چودہ ممبرات میں سے تھیں۔اپنی پوری زندگی قرآن مجید پڑھانے اور لجنہ کے کاموں میں گزاری۔تاریخ لجنہ اماء اللہ میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلیں ہمیشہ عزت و احترام سے ان کا نام لیں گی آپ کے کردار کے بعض پہلو بہت نمایاں ہیں۔سادگی ، غیرت دینی وغیرہ۔پھرا بھی حال ہی میں دفتر لجنہ اماءاللہ کی بالکل ابتدائی کارکن سراج بی بی صاحبہ وفات پا گئیں۔اجتماع پر آنے والی شاید ہی کوئی بہن ہوگی جو ان سے واقف نہ ہو۔1944ء میں جب حضرت مصلح موعود نے لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی تشکیل اور لجنہ کا با قاعدہ دفتر بنانے کا ارشاد فرمایا تو سراج بی بی صاحبہ نے اپنی خدمات پیش