خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 898 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 898

خطابات مریم 898 زریں نصائح دورہ اسلام آباد 13 اگست 1982ء کو اسلام آباد میں حضرت سیدہ موصوفہ نے اپنی تقریر میں سب سے پہلے آیت قرآنی كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ کی تلاوت فرمائی۔پھر آپ نے خلیفہ وقت کی اطاعت وفرمانبرداری ، وفاداری، جماعت کا اتحاد اور آپس میں گھل مل کر رہنے کی تلقین فرمائی پھر تلاوت شدہ آیت کے مضمون کی نہایت دلکش اور پر اثر انداز میں وضاحت فرمائی اور حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خواہش اور فرمان کے مطابق ہر مبر لجنہ کو تاکید کی کہ وہ ہر وقت ، ہر موقع ، ہر گھڑی اصلاح وارشاد کے لئے اپنے آپ کو مستعد اور تیار رکھے۔ہر ملنے والی غیر احمدی دوست کو سچے اسلام یعنی احمدیت کے متعلق کچھ نہ کچھ بتائے۔چھوٹی چھوٹی تقاریب اور اجتماعات کا بندوبست کرنا چاہئے۔مگر یہ اس وقت ممکن ہو گا اگر آپ مطالعہ کتب حضرت اقدس کو اپنا شعار بنائیں۔خود بھی کتب سلسلہ کا مطالعہ کریں اور اپنے گھر اور زیر اثر لوگوں کو بھی تاکید کریں۔تعلیم القرآن، فہم القرآن اور قرآن کریم پر عمل کرنے اور کروانے کی بھر پور کوشش کریں۔قرآن کریم میں مندرج سات سو احکامات میں سے ہر ایک کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے نہایت تندہی فکر ولگن سے کوشش کریں۔پہلے خود عبور حاصل کریں پھر حتی المقدور دوسروں کو بھی ذہن نشین کروائیں۔(الفضل 25 ستمبر 1982ء) ☆☆۔۔۔۔۔☆