خطابات مریم (جلد دوم) — Page 897
خطابات مریم 897 زریں نصائح اختتامی خطاب تعلیم القرآن کلاس برائے طالبات میٹرک اختتامی خطاب میں آپ نے طالبات کو یاد دلایا کہ یہ تربیتی کلاس آج کے زمانہ کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کا منبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات اور آپ کا زمانہ ہے۔مدینہ کے اطراف و جوانب سے وفود آپ کی ذات بابرکات سے فیضیاب ہونے کے لیے آتے رہتے۔آپ کی ہر حرکت کا مشاہدہ کرتے اور پھر اس پر عمل پیرا ہو جاتے تھے علم کو یا د ر کھنے اور پھیلانے کا یہی ایک طریق ہے آپ نے طالبات کو تلقین فرمائی کہ وہ بھی واپس جا کر اپنی دوسری بہنوں کو دین کی باتوں سے آگاہ کریں آپ نے یہ بھی کہا کہ ان ایام میں آپ کے دلوں میں دین کی جو محبت پیدا ہوئی ہے وہ قائم رہنی چاہئے بلکہ اس میں اور جلا پیدا کریں۔دینی علم کا حصول بہت ضروری ہے اور اصل اصولی علم قرآن کا ہے۔آپ زیادہ سے زیادہ قرآن کے علم کو سیکھیں اور دوسروں کو سکھائیں آپ نے مزید فرمایا کہ انسان کی پیدائش کا مقصد خدا کا پیار حاصل کرنا ہے اور یہ پیار صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر ہی حاصل ہوسکتا ہے۔کسی احمدی بچی کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے آپ نے طالبات کو بہترین عملی نمونہ پیش کرنے کی تاکید فرمائی کیونکہ کوئی قوم اس کے بغیر شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتی اس دوران آپ نے ربوہ کی طالبات کو خصوصی توجہ دلائی کہ انہیں ہر لحاظ سے اپنا بہترین عملی نمونہ پیش کرنا چاہئے۔(الفضل 20 مئی 1982ء)