خطابات مریم (جلد دوم) — Page 848
خطابات مریم 848 پیغامات پیغام برائے مرکزی سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ بھارت 1992ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وعلى عبده المسيح الموعود نمائندگان بجنات اماءاللہ بھارت وسامعات السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه ، صدر صاحبہ لجنہ اماءاللہ بھارت نے اپنے اجتماع کے لئے مجھ سے پیغام کی خواہش کی ہے چنانچہ اُن کی خواہش پوری کرتے ہوئے چند سطور ارسال ہیں۔ہر قوم جو ترقی کی خواہش رکھتی ہے اس کا ایک مقصد ہوتا ہے ہم جس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس کو تو اللہ تعالیٰ نے خود ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور اس سلسلہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد کو اسی غرض سے مبعوث فرمایا کہ آپ کے ذریعہ ایک پاک جماعت کا قیام ہو جو عملی نمونہ ہو قر آن مجید کی تعلیم کا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔انتہائی غرض اس زندگی کی خدا تعالیٰ سے وہ سچا اور یقینی پیوند حاصل کرنا ہے جو تعلقات نفسانیہ سے چھڑا کر نجات کے سرچشمہ تک پہنچاتا ہے۔سو اس یقین کامل کی را ہیں انسانی بناوٹوں اور تدبیروں سے ہر گز کھل نہیں سکتیں اور انسانوں کا گھڑا ہوا فلسفہ اس جگہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا تا بلکہ یہ روشنی ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ سے ظلمت کے وقت میں آسمان سے نازل کرتے ہیں“۔پیاری بہنو اس غرض کو پورا کرنے کیلئے ہی جماعت احمدیہ کی بنیا درکھی گئی ہے اور اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے تنظیمیں بنائی گئی ہیں تا وہ تلقین کرتی رہیں بُرائیوں سے روکتی رہیں اور سب کو توجہ دلاتی رہیں کہ اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ان پر عمل کرو جن سے اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر سکو اور اس پیار کو حاصل کرنے کا طریق خود اللہ تعالیٰ نے