خطابات مریم (جلد دوم) — Page 587
خطابات مریم 587 خطابات ایک پر وقار تقریب خطاب حضرت سیدہ صد ر صاحبہ لجنہ اماءاللہ پاکستان نوٹ : 25 رمئی 1992ء کو لجنہ اماءاللہ پاکستان کی طرف سے ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں حضرت سیدہ مہر آپا صاحبہ کو نا ئب صدر لجنہ اماءاللہ پاکستان کے عہدہ سے سبکدوش ہونے اور حضرت سیدہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ کو لمبا عرصہ تک بطور صدر لجنہ اماءاللہ ربوہ شاندار خدمات بجالانے کے بعد اس عہدہ سے بوجہ خرابی صحت فارغ ہونے پر آپ کی خدمات کا شاندار الفاظ میں جو تذکرہ فرمایا درج ذیل کیا جاتا ہے۔ایک عظیم باپ نے اپنی عظیم بیٹی کو اپنے شعروں میں یوں خراج تحسین دیا ہے۔وہ مری ناصره وہ نیک اختر جوہر عقیلہ با سعادت پاک ان سے بڑھ کر اور الفاظ میں آپ کی تعریف نہیں کی جاسکتی۔صاحبزادی ناصرہ بیگم جو حضرت فضل عمر کی سب سے بڑی بیٹی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت لمبا عرصہ لجنہ اماءاللہ کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔یہ توفیق بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی مل سکتی ہے۔اس سعادت بزور بازو نه بخشد خدائے نیست بخشنده اس میں ماں باپ کی تربیت اور دعاؤں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔حضرت فضل عمر نے 1925ء میں مستورات کی تعلیم کیلئے مدرستہ الخواتین قادیان میں جاری فرمایا جس میں حضور خود بھی پڑھایا کرتے تھے اور سلسلہ احمدیہ کے چوٹی کے علماء تعلیم دیتے تھے۔چارسال بعد 1929ء میں ان طالبات نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا جس میں سے ایک آپ بھی تھیں۔1931ء میں آپ نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور 1931ء میں نصرت گرلز سکول قادیان کے ساتھ ہی