خطابات مریم (جلد دوم) — Page 581
خطابات مریم 581 خطابات خطاب سالانہ اجتماع پاکستان 1991ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لجنہ اماءاللہ اپنی زندگی کے 69 سال کامیابی کے ساتھ گزار کر سترہویں سال میں داخل ہو رہی ہے۔یعنی قریباً ایک صدی کا تین چوتھائی حصہ۔ایک قوم کی زندگی میں یہ عرصہ کچھ کم نہیں۔ابھی حال ہی میں جماعت احمدیہ نے قیام احمدیت کے سوسال گزرنے پر جشن تشکر منایا ہے۔ان تذکروں کے ساتھ جو سو سال میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کے نشان بن کر ظاہر ہوئے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ ایک ننھے پودے کو دنیا نے بڑھتے اور تناور درخت بنتے دیکھا۔جس کے سایہ میں قو میں پناہ لینے کے لئے داخل ہورہی ہیں اور یہ سب کچھ اچانک نہیں ہو گیا اسی طرح ہوا جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا۔- ” اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے جو میں اس دنیا سے گزر جاؤں۔میں اپنے اُسی حقیقی آقا کے سوا دوسرے کا محتاج نہیں ہوں گا اور وہ ہر ایک دشمن سے مجھے اپنی پناہ میں رکھے گا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ میری مدد کرے گا۔اور وہ مجھے ہر گز ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔اگر تمام دنیا میری مخالفت میں درندوں سے بدتر ہو جائے تب بھی وہ میری حمایت کرے گا۔میں نامرادی کے ساتھ ہرگز قبر میں نہیں اتروں گا کیونکہ میرا خدا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں۔میرے اندرون کا جو اس کو علم ہے کسی کو بھی علم نہیں۔اگر سب لوگ مجھے چھوڑ دیں تو خدا ایک اور قوم پیدا کرے گا جو میرے رفیق ہونگے۔نادان مخالف خیال کرتا ہے کہ میرے مکروں اور منصوبوں سے یہ بات بگڑ جائے گی اور سلسلہ درہم برہم ہو جائے گا مگر یہ نادان نہیں جانتا کہ جو آسمان پر قرار پا چکا ہے زمین کی طاقت میں نہیں کہ اس کو محو کر سکے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 294، 295)