خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page vi of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page vi

ہر لحظہ خدا تعالیٰ کی خدمت اور عبادت کے لئے وقف ہے۔پس اس بات پر بھی شکر کرو کہ تم کو خدا تعالیٰ نے قبول فرمالیا اور میری نذر کو پورا کر دیا۔والحمد للہ۔۔۔مریم صدیقہ ! خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ اس نے اپنے فضل سے تم کو وہ خاوند دیا ہے جو اس وقت روئے زمین پر بہترین شخص ہے اور جو دنیا میں اس کا خلیفہ ہے۔دُنیا اور دین دونوں کے علوم کے لحاظ سے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔خاندانی عزت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہے اور جس کی بابت ان کی وحی یہ ہے ” فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء وہ جلد جلد بڑھے گا۔دل کا حلیم سخت ذکی اور فہیم ہو گا۔اسیروں کی رستگاری کرے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔فضل عمر بشیر الدین۔۔۔علوم و ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔وغیرہ وغیرہ۔پس تم اپنی خوش قسمتی پر جس قدر بھی ناز کرد بجا ہے۔“ اسی تسلسل میں آگے چل کر آپ لکھتے ہیں :۔مریم صدیقہ اتم انداز نہیں کرسکتیں کہ حضرت خلیفہ امسیح پر خدمت دین کا کتنا بوجھ اوراس دین کے ساتھ کس قدر ذمہ داریاں اور تفکرات اور ہموم و عموم وابستہ ہیں اور کس طرح وہ اکیلے تمام دنیا سے برسر پیکار ہیں اور اسلام کی ترقی اور سلسلہ احمدیہ کی بہبودی کا خیال ان کی زندگی کا مرکزی نکتہ ہے۔پس اس مبارک وجود کو اگر تم کچھ بھی خوشی دے سکو اور کچھ بھی ان کی تھکان اور تفکرات کو اپنی بات چیت خدمت گزاری اور اطاعت سے ہلکا کر سکوتو سمجھ لوکہ تمہاری شادی اور تمہاری زندگی بڑی کامیاب ہے اور تمہارے نامہ اعمال میں وہ ثواب لکھا جائے گا جو بڑے سے بڑے مجاہدین کو ملتا ہے۔“ (25 مارچ 1966) آپ سیدہ اس رشتے پر اپنی شکر گزاری کا اظہارا اپنی ایک تحریر میں فرماتی ہیں:۔بچن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا ہزاروں درود اور سلام آنحضرت ﷺ پر جن کے طفیل ہمیں دین اسلام کی نعمت حاصل ہوئی اور پھر ہزاروں سلام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو اسلام کو دوبارہ لائے اور ہم نے زندہ خدا کا وجود