خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page v of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page v

گناہوں سے نفرت ، بدی سے عداوت ہمیشہ رہیں دل میں اچھے ارادے ہر اک کی کروں خدمت اور خیر خواہی جو دیکھے وہ خوش ہو کے مجھ کو دعا دے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں یہ شفقت سراسر محبت کی پتلی بنا دے بنوں نیک اور دوسروں کو بناؤں مجھے دین کا علم اتنا سکھا دے خوشی تیری ہو جائے مقصود میرا کچھ ایسی لگن دل میں اپنی لگا دے غنا دے ، سچا دے، حیا دے، وفا دے بدی دے ، چھٹی دے، لقا ے، لقا دے، رضا دے وو میرا نام ابا نے رکھا ہے مریم خُدایا تو صدیقہ مجھ کو بنا دے حضرت سیدہ اپنی شادی سے قبل کی زندگی کے بارہ میں تحریر فرماتی ہیں:۔یہ سترہ سالہ زمانہ جو میں نے میکہ میں بسر کیا اس کا ایک ایک دن شاہد ہے کہ میری تعلیم وتربیت کرتے ہوئے حضرت ابا جان نے ہر وقت یہی کان میں ڈالا کہ ہر صورت تم نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔“ سترہ سال کی عمر میں آپ حضرت مصلح موعودؓ کے عقد میں آئیں اس فرض کی ادائیگی پر حضرت میر صاحب تحریر فرماتے ہیں۔وو۔۔۔بہر حال 1935 میں خدا کا بڑا فضل ہوا کہ آخری نذر کو ان کے ایجنٹ 30 یوم دوشنبہ کو آکر میرے ہاں سے اٹھا کر لے گئے میں نے سجدہ ادا کیا۔“ (الفضل 3 نومبر 1936 ) اس بابرکت شادی کے موقعہ پر آپ کے والد صاحب نے آپ کو چند نصائح ایک نوٹ بک پر تحریر کر کے دیں۔ان کا کچھ حصہ پیش ہے۔اب اس نکاح سے مجھے یقین ہو گیا ہے کہ میرے بندہ نواز۔خدا نے میری درخواست اور نذر کو واقعی قبول کر لیا تھا۔اور تم کو ایسے خاوند کی زوجیت کا شرف بخشا جس کی زندگی اور اس کا ہر شعبہ اور