خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 541 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 541

خطابات مریم 541 خطابات خطاب ( بمقام بونا میں سینٹر فرینکفرٹ مغربی جرمنی 29 جولائی 1989ء) میری پیاری بہنو اور بچیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سیده مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے تیسری بار جرمنی آنے کا موقعہ ملا ہے اور ہر دفعہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ ہر جماعت پہلے سے بڑھی ہے کم نہیں ہوئی اور اس سال تو یہ خاص سال جس میں ہم نے جشن صد سالہ منایا ہے جماعت احمدیہ کے سو سال پورے ہونے پر اور آپ کے جلسہ میں حضرت خلیفۃ امسیح الرابع ایده اللہ تعالیٰ شامل ہوئے ہیں ان کا خطاب سننے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔آپ نے جماعت احمدیہ کے کاموں پر اور اس کی ترقی پر بڑی خوشی کا اظہار فرمایا ہے میں اس لئے آپ کو مبارکباد دیتی ہوں خدا کرے کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تمام توقعات آپ کے متعلق پوری ہوں اور اسی طرح آپ سب مرد بھی اور عورتیں بھی اور بچے بھی اپنی اپنی تنظیموں میں، اپنے اپنے کاموں میں ، اپنے مقاصد میں آگے ترقی کرتے چلے جائیں۔بے شک ہم خوش ہیں کہ جماعت احمدیہ کے قیام پر ایک سو سال ہو چکے ہیں۔قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو بتایا کہ میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اس غرض سے بھیجا گیا ہوں کہ اس باغ کی آبیاری کروں جس کو حضرت نبی کریم صلی اللہ وسلم نے بویا۔آپ اکیلے تھے کوئی آپ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا نہ آپ کے رشتہ دار نہ آپ کے ملنے والے نہ دوست بلکہ ہر طرف سے آپ پر مخالفانہ وار ہوتے تھے اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ سلسلہ اگر چلا بھی تو بہت اتنا ہو گا کہ آپ کی زندگی تک چل جائے لیکن خدا تعالیٰ آپ کو بڑے پیار سے کہہ رہا تھا کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔میں تیری مدد کروں گا میں لوگوں