خطابات مریم (جلد دوم) — Page 540
خطابات مریم 540 اختتامی خطاب از ممبرات لجنہ نن سپیٹ ہالینڈ خطابات محترمه سیده مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے فرمایا کہ میں چھ سال بعد ہالینڈ آئی ہوں۔اس وقت لجنہ کی تعداد بہت کم تھی اب خدا کے فضل سے بڑھ گئی ہے اس بات کی خوشی ہو رہی ہے۔آپ نے مزید فرمایا ” آپ کا اجتماع کامیاب رہا ہے اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتا ہے آپ نے اپنی تقریر میں اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ بڑی لجنات نے بھی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے حصہ لیا ہے۔اس سلسلہ میں آپ نے مسز جمن بخش صاحبہ کی کوشش کو سراہا اور اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صد سالہ جشن تشکر کی تقریب ساری دنیا میں منائی گئی ہے آپ نے بھی منائی۔احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچ چکا ہے۔آپ نے فرمایا امریکہ کے کسی علاقہ میں ایک احمدی رہتا ہے وہاں بھی مسجد بنائی گئی ہے۔اس کے علاوہ جو بلی کے پروگرام میں حصہ لینے والی ان بہنوں کو بھی انعام دیئے گئے جن کو اس وقت نہ دیئے جا سکے تھے۔ان میں عزیزہ محمودہ فرحاخن نے سیدھی دوڑ ، مسز ثروت منصور نے رکاوٹ دوڑ ، مسٹر اکمل صاحبہ نے تین ٹانگوں کی دوڑ ، مسز جمن بخش نے میوزیکل چیئر اور ٹرڈم کی ٹیم کی کیپٹن بشری جلیل نے ریلے ریس، مسز حامد کریم نے تلاوت ،مسز اکمل نے تقریر اور مسز شمیم شاہد نے نظم میں انعام حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ پیشگوئیاں پہلی صدی میں پوری ہوئیں ہیں کچھ نئی صدی میں ہوں گی۔لیکن ایک بات یا درکھیں کہ قربانی کے بغیر کامیابی نہیں ہوتی۔محنت کریں اور اپنے لڑکوں اور اپنی لڑکیوں کو بُرائیوں سے بچائیں۔ہم مسلمان ہیں احمدی ہیں۔ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنا ہے۔ہم نے ان لوگوں کی نقل نہیں کرنی نئی صدی نئی نسل کی صدی ہے۔اب تم لوگوں نے بوجھ اُٹھانے ہیں تب ہی ہم اس دنیا سے یہ سوچ کر رخصت ہو سکتے ہیں کہ تم میں احساس پیدا ہو گیا ہے۔کام کرنے والے دوسروں کو کام سکھائیں۔تا کہ یہ نہ ہو کہ ایک کے بعد دوسری کام نہ چلا سکے اور کام میں خلاء پیدا ہو جائے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس ملک میں ہم نے اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے۔جس کیلئے بہت محنت کی ضرورت ہے دلوں میں کینہ نہ رکھیں۔محبت سے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کام کرتی چلی جائیں۔آمین (سالانہ رپورٹ لجنہ ہالینڈ 1989ء)