خطابات مریم (جلد دوم) — Page 507
خطابات مریم 507 خطابات تربیتی دوره قائد آباد ضلع خوشاب مورخہ 14 فروری 1988ء لجنہ سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا کہ لجنہ خوشاب کے علاوہ باقی پور اضلع بہت ہی ست ہے۔موجودہ دور میں جبکہ احمدیت کی شدید مخالفت ہو رہی ہے ہمیں اپنی کمزوریاں دور کرنی چاہئیں۔ہم نے اُس مہدی کو مانا ہے جس کی بشارت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔حضرت مسیح موعود کا دعویٰ آپ کی بشارتوں کے عین مطابق ہے۔کوئی خدائی جماعت ایسی نہیں جس کی مخالفت نہ ہوئی ہو۔آپ نے فرمایا کہ یہ مخالفت ہمارے لیے سچائی کی دلیل ہے۔بڑی سے بڑی تکالیف آئیں اور آخر کار فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔تکالیف کے باعث اپنے عزم سے منہ پھیر لینا باعث شرم ہے۔خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ طاقتور ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے آئندہ نسل کو تیار کرنا ہے اور آگے بڑھانا ہے۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضرت سیدہ موصوفہ نے فرمایا کہ انسانی فطرت ہے کہ بچہ جو کچھ بڑوں کو کرتے دیکھتا ہے وہی کچھ اپنا تا ہے۔اس لئے آپ اپنے بچوں میں دین کیلئے غیرت پیدا کریں۔آنحضرت کے زمانہ میں خواتین نے بہت سی قربانیاں دیں۔آپ بھی صحابیات اور اُمہات المومنین کا نمونہ اپنائیں جنہوں نے مال، وقت ، اولا داور عزت کی قربانی دی اور مردوں کے ساتھ ساتھ تبلیغ اسلام کا فریضہ سر انجام دیا۔1400 سال کے بعد خدا تعالیٰ نے ہم پر کرم فرمایا اور مہدی کو مبعوث فرمایا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے جو کچھ بھی ملا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور محبت سے ملا ہے۔آپ قرآن کریم کی تعلیم دینے اور بدعتوں کے خاتمہ کیلئے آئے تھے۔چنانچہ آپ بھی اپنے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دیں۔اس کے احکامات پر خود بھی عمل کریں اور بچوں کو بھی اس کا عامل بنا ئیں۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا۔کہ آپ ہرگز یہ نہ سوچیں کہ آپ کی تعداد کم ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةٌ (البقرة: 240)