خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 506 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 506

خطابات مریم 506 خطابات لفظ زکوۃ بھی یز کی سے نکلا ہے ہماری جماعت میں ادا ئیگی زکوۃ کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔زکوۃ دینے سے مال پاک ہو جاتا ہے اور اس میں برکت پیدا ہو جاتی ہے۔آپ نے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت تلاوت کی جس میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں کی بیعت کی شرائط بتائی گئی ہیں جن میں (1) شرک نہ کرنا (2) اولاد کو قتل نہ کرنا اور ان کی تربیت کرنا (3) زنانہ کرنا (4) جھوٹ نہ بولنا ( 5 ) چوری نہ کرنا شامل ہیں۔آپ نے فرمایا اگر ان شرائط کو پورا کیا جائے تو ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے اور حضرت بانی سلسلہ نے بھی تقریباً انہی باتوں کو شرائط بیعت میں شامل کیا ہے۔آپ نے ممبرات کی توجہ ان باتوں کی طرف بھی دلائی کہ ہمیشہ اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہئے۔سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں آپس میں لڑائی جھگڑا نہ کریں بلکہ لڑنے والوں کی آپس میں صلح کروائیں۔بدگمانی سے بچیں، تکبر نہ کریں ، دل کی مسکین بن جائیں اور دلوں میں انکسار اور اخلاص پیدا کر یں۔نیز غیبت سے بھی بچنا چاہئے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ارشاد کے مطابق قول و فعل اور لین دین میں سچائی اختیار کریں اور قولِ سدید پر قائم رہیں۔آپ نے فرمایا شادی بیاہ کی رسمیں چھوڑ دیں، سادگی اختیار کریں، اسراف سے بچیں، بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کی طرف توجہ دیں ان کے دلوں میں دین کی محبت اور اللہ تعالیٰ کا پیار پیدا کریں۔ان کے لئے ایسا نمونہ بنیں کہ وہ آپ کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں۔آپ نے فرمایا ایک اہم مسئلہ پردہ کا ہے۔پردہ کی طرف سے بے پرواہی کی جاتی ہے۔قرآن کریم میں واضح طور پر پردہ کا حکم ہے۔چند روزہ دنیا کی خاطر پر دہ کو نہ چھوڑیں۔ہم نے تو دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔ہمارا دعویٰ کچھ اور عمل کچھ اور نہیں ہونا چاہئے۔چاہئے کہ ہمارا فعل ہمارے قول کی شہادت دے اور ہمارا عمل ہمارے ایمان اور عقیدے کی شہادت دے۔آپ نے پر شوکت الفاظ میں فرمایا کہ اب جب کہ ہمارا قدم دوسری صدی کی جانب بڑھ رہا ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی تمام کمزوریاں ، تمام کو تا ہیاں اور تمام غفلتیں خدا اور اس کے رسول کی خاطر چھوڑتے ہوئے آگے نئی صدی میں قدم بڑھا ئیں اور دنیا کیلئے نمونہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔(ماہنامہ مصباح مئی 1988ء)