خطابات مریم (جلد دوم) — Page 473
خطابات مریم 473 خطابات 20 فروری 1987ء لجنہ ہال کے سنگ بنیاد کی بابرکت تقریب میری پیاری بہنو جو پاکستان کی تمام لجنات کی نمائندگان کی طرف سے یہاں لجنہ اما اللہ کے ہال کا سنگ بنیا د نصب کرنے کی تقریب میں جمع ہیں۔آج کا دن بہت مبارک ہے کیونکہ آج کے دن حضرت بانی سلسلہ نے مصلح موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔1951ء میں لجنہ اماءاللہ کے دفتر و ہال کی بنیاد حضرت فضل عمر نے رکھی تھی۔1922ء میں آپ نے لجنہ کا قیام فرمایا۔بے شک اُس وقت لجنہ کی تعداد بھی تھوڑی تھی اور کام میں بھی اتنی وسعت نہ تھی لیکن یاد رکھیں بڑی سے بڑی عمارت کی مضبوطی کا انحصار اس کی بنیادوں پر ہوتا ہے۔آج سے 66 سال قبل لجنہ کی جو بنیا د حضرت فضل عمر کے ذریعہ رکھی گئی اور ان بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لئے جو قربانیاں اس زمانہ کی خواتین نے دیں۔ہم ان کو سلام کرتے ہیں۔ہماری بہنوں کا فرض ہے کہ وہ ہمیشہ ہی ابتدائی خدمات سرانجام دینے والی ممبرات کا تذکرہ کرتی رہیں۔ان کی خدمات اور قربانیوں سے نئی نسل کو واقف کراتی رہیں اور اس طرح قربانیوں کا ایک تسلسل جاری رہے۔حضرت فضل عمر نے 1945ء میں لجنہ کو اپنا دفتر بنانے کی ہدایت دی۔جس کے لئے چندہ جمع کرنا شروع کر دیا گیا تھا لیکن 1947ء میں ملک تقسیم ہو گیا اور قادیان کے احمدی اپنے گھر ، سامان سب چھوڑ چھاڑ کر ادھر آ گئے۔جماعت کی مالی حالت انتہائی طور پر کمزور ہونے کے باوجود حضرت فضل عمر کی ہدایات پر لجنہ نے ربوہ آباد ہوتے ہی پہلے ایک کچا مکان بنوا کر اپنا دفتر بنایا اور کام شروع کر دیا۔پھر جیسا کہ میں ذکر کر چکی ہوں اس دفتر اور ہال کی بنیا د رکھی گئی جس میں لمبا عرصہ ہم سب کو جمع ہونے اور کام کرنے کی توفیق ملی۔لیکن اب اس عمارت کی حالت بہت خستہ ہو چکی تھی اور ضروریات بھی زیادہ ہوگئی تھیں۔قدرت ثانیہ کے