خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 471 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 471

خطابات مریم 471 خطابات 7,04,010 خرچ کئے گئے۔واپسی قرضہ 3,00,000۔۔۔گذشتہ سال کی بچت میں سے لجنہ اماء اللہ مرکزیہ نے 25000- شعبہ صحت جسمانی کی آخری قسط ادا کی اور اس طرح سوالاکھ روپے جو لجنہ اماء اللہ کے ذمہ حضور نے لگائے تھے وہ ادا ہو گئے۔اس کے علاوہ دس ہزار روپے سیدنا بلال فنڈ میں لجنہ کے فنڈ سے ادا کئے گئے۔لجنہ اماءاللہ کے کاموں کے لئے ایک فوٹوسٹیٹ مشین - 40,410 روپے میں خریدی گئی۔اس سال نیا دفتر تعمیر ہونے کی وجہ سے اس کے فرنیچر ، پردوں ، فٹنگ وغیرہ پر خاصی رقم خرچ ہوگئی۔اس لئے لجنات کو چاہئے کہ اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے نہ صرف بجٹ پورا کرنے کی کوشش کریں بلکہ پہلے سے بڑھ کر چندے ادا کریں۔نیر دوران سال حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر کارکنات کی تنخواہوں میں %20 کا اضافہ کیا گیا تھا۔اس سال کا اہم ترین واقعہ جس کا ذکر مجھے ابتداء میں کرنا چاہئے تھا وہ یہ کہ ایک احمدی خاتون نے خدا کی راہ میں جان دے کر قربانیوں کے دور میں نئے باب اور نئے سنگ میل کا اضافہ کیا ہے۔اس کی تفصیل دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ سب کو علم ہی ہے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے 25 جون کے خطبہ میں حضور نے فرمایا کہ: سب سے پہلے پاکستان سے آنے والی پُر در دخبر سے مطلع کرنا چاہتا ہوں یہ خبر درد ناک تو ضرور ہے مگر ویسی ہی درد ناک ہے جیسی اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں درد میں لپٹی ہوئی سعادتیں نصیب ہوتی رہی ہیں۔یہ سعادت دردناک اس پہلو سے ہے کہ واقعہ جب راہ مولیٰ میں محض اللہ کی محبت کی خاطر جان کی قربانی پیش کرنے کی خبر سنی جاتی ہے تو ایک طبعی سچا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ دل کو دکھ پہنچتا ہے لیکن ایسا دکھ نہیں جس کے ساتھ شکوہ اور واویلا وابستہ ہو بلکہ یہ ایسا دکھ ہوتا ہے جسے باوجود دکھ ہونے کے مومن اپنے دل و جان سے اس طرح چمٹا لیتا ہے جیسے کسی اپنے پیارے عزیز کو چمٹایا جاتا ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔لہذا یہ وہ سعادت ہے جس کی خبر میں دینا چاہتا ہوں جو نہ مٹنے والی سعادت ہے