خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 456 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 456

خطابات مریم 456 خطابات سے دوری کی جو آگ لگی ہوئی ہے اس پر آپ کا دل دکھنا چاہئے رسومات ہمیں مذہب سے دور لے جاتی ہیں۔رسومات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے خلفاء کے واضح ارشادت اور فتاویٰ موجود ہیں۔جہاں بھی لجنہ کی عہدیداران کوئی رسم دیکھیں ان کا فرض ہے کہ وہ فوراً خواتین کو ان سے روکیں جو خاتون کسی جماعتی کام میں روک بنتی ہے وہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔آپ نے فرمایا کہ ابتلاء کے زمانے آتے ہیں اور ہم ابتلاؤں سے نکل کر ہی ترقی کریں گے۔آپ نے فرمایا کہ خدا کے وعدے ضرور پورے ہو نگے۔اگر ہم خدانخواستہ تھک کر رستے میں رہ گئے تو آنے والے آ کر جگہ لے لیں گے اور اپنی ذمہ داریاں اُٹھائیں گے اور انہی لوگوں کے نام تاریخ میں باقی رہیں گے جو اپنے آپ کو قربانیوں کے لئے پیش کریں گے۔پس ہمارا اولین فرض خدا کی رضا کو حاصل کرنا ہونا چاہئے۔نماز ایک مؤکد فریضہ ہے اور حضور ایدہ اللہ نے اس کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔خواتین کو چاہئے کہ وہ اس طرف توجہ دیں۔اپنے بچوں ، بھائیوں اور خاوندوں کو بھی اس طرف توجہ دلائیں۔بچے اپنی ماؤں کا نمونہ دیکھتے ہیں اگر مائیں نمازی ہوگی تو ان کے بچے بھی نمازی ہونگے اگر مائیں مالی قربانی میں حصہ لیں گی تو ان کے بچے بھی مالی قربانی میں حصہ لیں گے۔ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنا صحیح نمونہ پیش کریں اور بچیوں کی تربیت کریں۔معاشرہ خود بخو دسنور جائے گا۔اللہ اور رسول کی اطاعت جو ترقی کا محور ہے اس طرف توجہ رکھیں۔ہر کام جس کی بناء ڈال رہی ہیں اس سے پہلے سوچیں کہ اس کا اثر نسلاً بعد نسل کیا ظاہر ہوگا۔پس قال اللہ اور قال الرسول کے مطابق زندگیاں گزاریں۔اپنے عہد بیعت کو ہر وقت یا درکھیں اور اس پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں۔جب ہم اس پر عمل کریں گی تو ہم اپنا نصب العین حاصل کر لیں گی۔آجکل کے حالات متقاضی ہیں کہ ہر گھر اپنی اصلاح کرے۔ہماری کوتا ہیاں ہمارے مقاصد کے درمیان حائل ہو رہی ہیں۔ان کو فورا ترک کر دیں۔بہت دعائیں کریں۔خاص طور پر حضور کے لئے اور اسیران سکھر اور ساہیوال کے لئے کہ خدا تعالیٰ جلد کوئی بہتر راہ نکال دے (از سالانہ رپورٹ لجنہ اماءاللہ مرکز یہ 87-1986ء)