خطابات مریم (جلد دوم) — Page 457
خطابات مریم 457 خطابات دوره اوکاڑہ 30 جون 1986ء تشہد وتعوذ کے بعد آپ نے فرمایا کہ مجھے ایک لمبے عرصہ کے بعد یہاں آ کر ملنے اور کام کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔آپ کا کام صرف یہ نہیں کہ جلسہ میں آئیں اور سن کر چلی جائیں بلکہ جو کام کی باتیں سنیں انہیں دوسروں تک پہنچائیں اور خود بھی اس پر عمل کریں۔پھر حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے سورۃ الصف کی آیات تلاوت فرمائیں اور خواتین کو تلقین فرمائی کہ اپنی آخرت کو سنوارنے کی کوشش کریں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم اپنے اموال اور نفوس کے ذریعہ جہاد کریں۔قرآن مجید سے ثابت ہے کہ جہاد تین قسم کے ہیں۔تلوار کا جہاد جہاد اصغر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ سے واپس تشریف لائے اور فرمایا کہ ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد یعنی تربیت کی طرف آئے ہیں۔قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ آپ کو مالوں کی قربانی کے ساتھ ساتھ وقت کی قربانی بھی دینی ہوگی۔احمدیت پھیلانے کے لئے مال اور نفوس قربان کرنے پڑیں گے۔آپ مالی قربانی میں تو جب بھی کوئی تحریک خلیفہ وقت کی طرف سے اُٹھے لبیک کہتی ہیں اور اپنا مال خدا کے حضور پیش کر دیتی ہیں۔دوسرے عہد پر نفس کی قربانی ہے جس میں ابھی آپ پیچھے ہیں۔پہلے وقتوں میں بزرگوں نے قربانیاں پیش کیں۔اب بھی مختلف جگہوں میں احمدی راہِ مولیٰ میں اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔خود اس شہر اوکاڑہ میں بھی ایک قربانی پیش کی گئی ہے۔ان دنوں خدا کے نام کی خاطر آپ سے قربانی کا تقاضہ کیا جا رہا ہے۔بے شک جان کی قربانی بہت عظیم قربانی ہے لیکن اپنے نفس کو ہر وقت قربانی کے لئے تیار رکھیں۔ابھی ہماری جماعت میں بہت سی اخلاقی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔خصوصاً عورتوں میں یہ کمزوری زیادہ ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے کی