خطابات مریم (جلد دوم) — Page 452
خطابات مریم 452 خطابات خطاب از ممبرات لجنه شاہ تاج شوگر ملز ضلع منڈی بہاؤالدین 12 مارچ1986ء خطاب میں سب سے پہلے آپ نے اپنی خدمت میں پیش کئے جانے والے سپاسنامہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ پسندیدہ امر نہیں ہے۔سب سے پہلی بات جس کی طرف میں آپ کو توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ اطاعت ہے۔خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ تم خدا، اس کے رسول اور اس کے مقرر کردہ خلفاء کی اطاعت کرو۔نیز جو تم پر نگران یا حاکم بنایا جائے اس کی اطاعت کرو۔لجنہ مرکزیہ نے صدر کے انتخاب کیلئے جو قوانین بنائے تھے۔مقامی طور پر ان کی پابندی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے یہاں پر بعض اختلافات پیدا ہوئے۔قانون بنایا گیا ہے کہ جو صد ر دو بار مسلسل منتخب ہو جائے تیسری بار اس کا نام پیش نہ کیا جائے کیونکہ بعض جگہ سالہا سال ایک ہی صدر کے ہونے کی وجہ سے بعض قباحتیں پیدا ہو جاتی تھیں۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے فرمایا کہ نئی نسل کو بھی آگے آنے کا موقعہ دینا چاہئے۔جس صدر کے لئے مرکز سے جتنے عرصہ کے لئے منظوری آئے اس میں وہ خلوص نیت اور دیانتداری سے کام کرے اس کے بعد ہر طرح سے عہدیداران سے تعاون کرنے اور لجنہ کی ممبر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور لجنہ کی ممبر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے ، چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہم میں اختلاف پیدا نہیں ہونے چاہئے۔اپنے اپنے عہد بیعت کو ہر وقت مدنظر رکھیں۔اسیران ساہیوال اور سکھر کے لئے خصوصی دعائیں کریں۔جنہوں نے خدا اور خدا کے رسول کی خاطر اتنی تکالیف برداشت کیں اور اپنی جانیں خدا کے حضور پیش کرنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے تو اپنے عہد کو سچ کر دکھایا۔بیوی، بچوں، والدین اور بہن بھائیوں کی پرواہ نہیں کی۔صرف خدا اور خدا کے رسول کی رضا کو مقدم سمجھا۔آپ نے فرمایا کہ قربانیاں پیش کر نا صرف چندا فراد کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داریوں