خطابات مریم (جلد دوم) — Page 437
خطابات مریم 437 خطابات ماں باپ کی عزت نہیں کرتا اور امور معروفہ میں جو خلاف قرآن نہیں ہیں اُن کی بات کو نہیں مانتا اور ان کی تعمید خدمت سے لا پروا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو خص اپنی اہلیہ اور اُس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص اپنے ہمسایہ کو ادنی ادنیٰ خیر سے بھی محروم رکھتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص نہیں چاہتا کہ اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور کینہ پرور آدمی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔۔۔اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے یہ سب زہریں ہیں تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح بچ نہیں سکتے اور تاریکی اور روشنی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی“۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحہ 19,18) پیاری بہنو! ہم نے ظلمت کو چھوڑ کر نور کے سایہ تلے آنا ہے اور نو راختیار کرنے کا طریق حضور نے بتا دیا ہے کہ یہ یہ برائیاں چھوڑ کر اعلیٰ اخلاق اپنانے ہوں گے اور اس راستہ پر چلنا ہو گا جوصراط العزیز الحمید ہے اور اس راستہ پر صرف قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہی چلا جا سکتا ہے جیسا کہ سورۃ ابراہیم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : ترجمہ: یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر اس لئے اُتارا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لے آئے یعنی غالب اور تعریفوں والے خدا کے راستہ کی طرف۔(سورۃ ابراہیم :2) پس کتاب الہیہ کا علم حاصل کرنا آپ کے لئے بہت ضروری ہے ورنہ وہ اخلاقی اور روحانی تبدیلی جو حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ آپ میں پیدا کرنی چاہتے تھے نہیں پیدا ہو سکتی۔آپ فرماتے ہیں :۔تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے“۔(روحانی خزائن جلد 19 کشتی نوح صفحہ 13)