خطابات مریم (جلد دوم) — Page 438
خطابات مریم 438 خطابات پس قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو۔اس کے مطالب سمجھو اور اس کو اپنی زندگیوں پر حاوی کروتا اس کے نتیجہ میں تمہارا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا ہو۔ایسا مضبوط تعلق جس کو کوئی توڑ نہ سکے ہم کوشش کریں کہ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس کے نتیجہ میں گناہ آلو د زندگی سے نجات پا کر اپنی زندگی کا حقیقی مقصد حاصل کریں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے سامنے وہ شرائط رہیں جن پر ہم نے بیعت کی وہ غرض رہے جس کے لئے ہم نے ایک ہاتھ پر بیعت کی اور جائزہ لیتے رہے کہ اس کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں۔میری بہنو اور بچیو! ان تین دنوں میں اپنا وقت ضائع نہ کرو توجہ سے پروگرام سنو اور ان سے فائدہ اُٹھاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے رپورٹیں دیکھ کر کہ ہمارا کم سے کم معیار ہر کام میں پچاس فیصد ہونا چاہئے ترجمہ قرآن کریم کے لحاظ سے ہم ابھی اس معیار پر نہیں پہنچیں آپ یہ کہتی ہیں کہ ہم بوڑھے طوطوں کو نہیں پڑھا سکتے لیکن اگر آپ نوجوان بچیوں اور ناصرات کی طرف پوری توجہ دیں تو اگلی نسل خود بخودسو فیصد تعلیم یافتہ مل جائے گی جسے دین پر عبور حاصل ہوگا۔میں دیہات کی لجنات کو خاص طور پر توجہ دلاتی ہوں کہ اگر ترقی کرنی ہے تو اپنے بچوں کو پڑھائیں اگر ایک لڑکی بھی آپ کی نہیں پڑھتی تو آپ گناہ کرتے ہیں۔جماعت احمدیہ کی خواندگی یعنی پڑھے لکھے ہونے کا معیار سو فیصد ہونا چاہئے۔ناظرہ اور ترجمہ نماز باترجمہ کا معیار بھی اسی فیصد ہونا چاہئے پھر مزید علمی ترقی کی طرف قدم اُٹھایا جا سکے ابھی تو بہت سی لجنات ابتدائی سیڑھیاں چڑھ رہی ہیں ایک سطح پر سب کو لانے کی کوشش کریں تعلیمی لحاظ سے تربیتی لحاظ سے، خدمت خلق کے لحاظ سے ، اعلیٰ اخلاق کے لحاظ سے، اعلیٰ کردار کے لحاظ سے، قربانی دینے کے لحاظ سے، داعی الی اللہ ہونے کے لحاظ سے تا آپ مل کر وہ عظیم الشان اخلاقی اور روحانی انقلاب لا سکیں جو ہمارا مقصد ہے اور جس کی نشاندہی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتاب کشتی نوح میں فرمائی ہے ہر احمدی بہن کو یہ کتاب غور سے پڑھنی اور پھر اپنا جائزہ لینا چاہئے اور اس کے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ ہمیں وہ ایسا بنادے۔آمین اللھم آمین (ماہنامہ مصباح نومبر 1985ء صفحہ 8 تا 17)