خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 410 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 410

خطابات مریم 410 خطابات نئی تہذیب کے بداثرات اور احمدی عورت کا کردار مورخہ 26 دسمبر 1983ء کو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ نے احمدی خواتین کے جلسہ سالانہ پر جو اہم خطاب فرمایا اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔آج اپنی بہنوں کے سامنے اپنی تقریر میں میں نے بتانا ہے کہ نئی تہذیب کے کیا بد اثرات ہیں اور اس کے مقابل میں احمدی خواتین کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور انہوں نے کیا کردارادا کرنا ہے۔تہذیب کی تعریف تک کے پہلے میں لفظ تہذیب کی تعریف بیان کروں گی کہ تہذیب کسے کہتے ہیں۔تہذیب کی تعریف حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے دیباچہ قرآن مجید میں نہایت آسان اور عمدہ طریق پر بیان فرمائی ہے اس لئے میں وہ تعریف حضور کے الفاظ میں ہی بیان کرتی ہوں آپ فرماتے ہیں:۔میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمدن یعنی Civilization اور تہذیب یعنی کلچر سے میری کیا مراد ہے۔میرے نزدیک تمدن ایک خالص مادی نقطہ نگاہ ہے مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی اعمال میں جو یکسانیت اور سہولت پیدا ہو جاتی ہے وہ میرے نزدیک تمدن کہلاتی ہے۔انسانی اعمال کے نتیجہ میں جس قسم کی اور جس قدر پیداوار دنیا میں ہو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لئے نقل و حرکت کے جتنے ذرائع موجود ہوں۔مال کو سہولت کے ساتھ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی طرف منتقل کرنے کے لئے جتنی تدبیریں کی گئی ہوں، تعلیم جتنی رائج ہو، صنعت و حرفت کو جتنا منظم کر لیا گیا ہو، سائنس کی طرف قوم میں جتنا میلان پایا جا تا ہوا اور ملک میں امن کے قیام کیلئے جس حد تک قومی تنظیم کی گئی ہو۔یہ چیزیں لازمی طور پر انسان کے اعمال پر اثر ڈالتی ہیں اور ان چیزوں میں جو ملک ترقی یافتہ ہو اس کے افراد کی زندگی دوسری اقوام کے افراد کی زندگی