خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 411 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 411

خطابات مریم 411 خطابات سے نمایاں طور پر الگ نظر آتی ہے اور میرے نزدیک اسی کو تمدن یا سویلائز یشن کہتے ہیں۔ایک ادنی تدبر سے یہ بات سمجھ میں آ سکتی ہے کہ زندگیوں کا یہ فرق محض زراعت، صنعت و حرفت ، سائنس اور تعلیم کے فرق کا نتیجہ ہے مگر فرق اتنا بڑا ہے کہ ایک قسم کی زندگی کے عادی لوگ دوسری قسم کی زندگی کے عادی لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا بھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔یہی چیز میرے نزدیک تمدن یعنی سویلائز یشن کہلاتی ہے اور اس کے اختلافات پر دنیا کی صلح اور جنگ کا بہت کچھ انحصار ہے۔یعنی تمدن آخر امپیریل ازم اور خواہش عالمگیر انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔دوسری چیز تہذیب یعنی کلچر ہے اس کو تمدن سے وہی نسبت ہے جو روح کو جسم سے ہے۔تمدن مادی ترقی کا نتیجہ ہے اور تہذیب دماغی ترقی کا نتیجہ ہے۔تہذیب یعنی کلچر اُن افکار اور اُن خیالات کا نتیجہ ہے جو کسی قوم میں مذہب یا اخلاق کے اثر کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔مذہب ایک بنیاد قائم کرتا ہے اور مذہب کے پیرو اُس بنیاد پر ایک عمارت کھڑی کرتے ہیں خواہ وہ بنیا د رکھنے والے کے خیالات سے کتنے بھی دور چلے جائیں وہ بنیا دکو چھوڑ نہیں سکتے “۔(دیباچہ تفسیر القرآن کریم صفحہ 17،16) مغربی تہذیب سے کیا مراد ہے اس تعریف کو سامنے رکھ کر آپ مشاہدہ کریں تو آپ کو دنیا میں یہ نظارہ نظر آئے گا کہ ایک عیسائی کہلانے والا ، دہریہ اور ایک متعصب عیسائی کے درمیان جو جوڑ اور اتفاق ہو جاتا ہے وہ اتفاق اس کا ایک مسلمان کے ساتھ نہیں ہوتا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایک عیسائی کہلانے والے دہریہ کی فکر تو عیسائیت سے آزاد ہو گئی مگر اس کی طبیعت اور افعال عیسائیت کی تہذیب سے آزاد نہیں ہوئے۔پس جب ہم نئی تہذیب کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو مراد وہ تہذیب ہوتی ہے جو عیسائیوں کے ماتحت ایک لمبا عرصہ رہنے کی وجہ سے ہماری تہذیب پر اثر انداز ہوئی یا ترقی یافتہ ممالک جو سب عیسائی ہیں، کی بڑھتی ہوئی آزادی کے زیر اثر نمودار ہوئی گویا نئی تہذیب یا مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جس پر عیسائیت کی چھاپ لگی ہوئی ہو اور ایک مسلمان عورت اگر اس کی تقلید کرے گی تو دوسرے الفاظ میں وہ عیسائی طرز فکر کی نقل کر رہی