خطابات مریم (جلد دوم) — Page 401
خطابات مریم 401 خطابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔کہ جب یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ نے فرمائی اور براہین احمدیہ میں درج کر کے شائع کی گئی اس وقت جیسا کہ خدا نے فرمایا میں اکیلا تھا اور بجز خدا کے میرے ساتھ کوئی نہ تھا۔میں اپنے خویشوں کی نگاہ میں بھی حقیر تھا کیونکہ ان کی راہیں اور تھیں اور میری راہ اور تھی اور قادیان کے تمام ہندو بھی باوجود سخت مخالفت کے اس گواہی کے دینے کیلئے مجبور ہوں گے کہ میں در حقیقت اس زمانہ میں ایک گمنامی کی حالت میں بسر کرتا تھا اور کوئی نشان اس بات کا موجود نہ تھا کہ اس قدر ارادت اور محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھنے والے میرے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔اب کہو کیا یہ پیشگوئی کرامت نہیں ہے۔کیا انسان اس پر قادر ہے اور اگر قادر ہے تو زمانہ حال یا سابق زمانہ میں سے اس کی کوئی نظیر پیش کرو فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 250 حقیقۃ الوحی) ان ہی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرماتے ہیں :۔و تم دیکھتے ہو کہ باوجود تمہاری سخت مخالفت اور مخالفانہ دعاؤں کے اس نے مجھے نہیں چھوڑا اور ہر میدان میں وہ میرا حامی رہا۔ہر ایک پتھر جو میرے پر چلایا گیا اس نے اپنے ہاتھوں پر لیا۔ہر ایک تیر جو مجھے مارا گیا اس نے وہی تیر دشمنوں کی طرف لوٹا دیا۔میں بے کس تھا اس نے مجھے پناہ دی، میں اکیلا تھا اس نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا۔میں کچھ بھی چیز نہ تھا مجھے اس نے عزت کے ساتھ شہرت دی اور لاکھوں انسانوں کو میرا ارادت مند کر دیا پھر وہ اس مقدس وحی میں فرماتا ہے کہ جب میری مدد تمہیں پہنچے گی اور میرے منہ کی باتیں پوری ہو جائیں گی یعنی خلق اللہ کا رجوع ہو جائے گا اور مالی نصرتیں ظہور میں آئیں گی تب منکروں کو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا وہ باتیں پوری نہیں ہو گئیں جن کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے۔چنانچہ آج وہ سب باتیں