خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 399 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 399

خطابات مریم 399 خطابات طرف توجہ دلائی گئی۔خاص طور پر ہر جگہ ہی صحیح پردہ کی طرف میں نے بھی توجہ دلائی اور صاحبزادی امتہ القدوس بیگم صاحبہ نائبہ صدر لجنہ اماء الله مرکز یہ وسیکرٹری شعبہ تربیت نے بھی۔اس امر پر بہت افسوس ہوتا تھا کہ ربوہ کی تربیت یافتہ بچیاں بیرون ممالک جا کر فورا ہی پردہ اُتار دیتی ہیں اور ہمارے لئے شرم کا باعث بنتی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کی جلسہ سالانہ کی تقریر کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔اچھی خاصی تعداد نے با قاعدہ پر دہ شروع کر دیا ہے لیکن ابھی بہت ضرورت ہے کہ جد و جہد جاری رکھی جائے اور وہاں کی سب بہنیں اسلام کی تعلیم کا عملی نمونہ ہوں۔تربیت کی کمی با وجود بڑی مخلص بڑی قربانی دینے والی بہنیں ہیں۔جس ملک میں بھی گئی ہر جگہ پہنچ کر اپنی جماعت کی ترقی اس ملک میں دیکھ کر ، ان کی قربانیاں دیکھ کر بے اختیار دل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجنے کو دل چاہتا تھا۔میری آنکھوں کے سامنے اور ذہن میں ایک فلم چلنی شروع ہو جاتی تھی کہ آج سے 94 سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق بھیجا ہے تا میرے ذریعہ دنیا میں پھر اسلام کا غلبہ ہو آپ کے اس دعوی کو دنیا نے ایک دیوانے کی بڑ قرار دیا۔اسلام سے دشمنی رکھنے والوں نے آپ کی شدید مخالفت شروع کر دی یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائی دنیا سارے ہندوستان اور پھر خدانخواستہ مکہ اور مدینہ میں عیسائیت پھیلانے کے خواب دیکھ رہی تھی اور برٹش گورنمنٹ کی مددان کو حاصل تھی۔اسلام کے غلبہ اور ترقی سے مسلمان مایوس ہو چکے تھے اور بڑے بڑے خاندانوں کے لوگ عیسائی ہونے لگے تھے جو عیسائی نہیں ہوئے وہ بھی نام کے مسلمان تھے ان کو کچھ بھی دین کا پتہ نہ تھا۔عقائد میں بگاڑ آ چکا تھا جس کی وجہ سے دشمنانِ اسلام کو اسلام پر اعتراضات کرنے کا موقع ملتا تھا۔صرف اور صرف ایک ہستی تھی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے دل میں درد تھا۔مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کہ اُن کی اصلاح ہو جو ساری ساری رات اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر کر دعا کرتے تھے کہ اس دیں کی شان و شوکت یا ربّ مجھے دکھا دے سب جھوٹے دیں مٹا دے میری دعا یہی ہے