خطابات مریم (جلد دوم) — Page 387
خطابات مریم 387 خطابات ان معنوں کی رو سے دیکھا جائے تو لفظ جہاد بڑے وسیع معنے رکھتا ہے۔تمام وہ کوششیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کی جائیں۔عبادتیں:۔مخلوق خدا کی خدمت ، قومی ترقی کے لئے قربانی ، اپنی اصلاح اور اسلام کی اشاعت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں وہ سارے ارکان اسلام آجاتے ہیں جو ایک مسلمان کے لئے ضروری ہیں نماز۔روزہ۔زکوۃ وغیرہ ہر ایک کی شرائط مقرر ہیں۔ہر عبادت کو پورے خلوص سے ادا کرنا چاہئے لیکن عبادتوں میں سر فہرست نماز ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء والمنكر (العنكبوت: 46) برائیوں سے بچنے کا ذریعہ نماز ہے۔دل لگا کر پوری توجہ سے با قاعدگی سے نماز پڑھی جائے تو بہت سی بے حیائیوں اور برائیوں اور ناپسندیدہ باتوں سے انسان بچ جاتا ہے۔کیونکہ نما ز انسان کو پاک کر دیتی ہے۔عبادت کے بعد دوسرے نمبر پر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق آتے ہیں۔صرف عبادتوں سے اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہوتا جب تک اس کے بندوں کے حقوق پورے طور پر ادا نہ کئے جائیں۔اس لئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ بار بار انسانوں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کبھی ماں باپ کے حقوق کی طرف کبھی بہن بھائیوں کے حقوق کی طرف ، رشتہ داروں کے حقوق کی طرف ، اولاد کے حقوق کی طرف، ہمسایوں کے حقوق کی طرف، مسافروں کے حقوق کی طرف، ملنے جلنے والے اور پاس بیٹھنے والوں کے حقوق کی طرف کہ جو حق کسی کا ہے اسے دو کسی پر ظلم نہ کرو۔کسی پر بہتان نہ لگاؤ۔غیبت نہ کرو۔دکھ نہ دو۔کسی کے جذبات کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔بدظنی نہ کرو۔تجسس نہ کرو۔برے ناموں سے نہ پکا رو۔جھگڑا فساد والی باتیں نہ کرو۔یا درکھیں ظلم پیدا ہوتا ہے حق تلفی سے جب کسی کو اس کے حقوق نہ دیئے جائیں اس پر ظلم ہوگا تو اس میں غصہ پیدا ہوگا وہ بدلہ لینے پر آمادہ ہو گا اور اس سے فساد واقع ہوگا۔اسلام نے ہر ایک کے حقوق مقرر کئے ہیں۔وہ جائز حقوق اس کو ملنے چاہئیں۔کسی مذہب نے حقوق کے سلسلہ میں اتنی مکمل طور پر راہ نمائی نہیں کی جتنی اسلام نے کی۔مثلاً بچوں کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے۔ان کی عزت کرو، اکرام کرو، ان کو تعلیم دو، ان کی تربیت کرو، ان کو بے مہار نہ