خطابات مریم (جلد دوم) — Page 386
خطابات مریم 386 خطابات ایمان۔دوسرے عمل کی طرف توجہ دلائی ایمان اور عمل دونوں مل کر انسان کو کامل مومن بناتے ہیں۔ایمان کی مثال ایک درخت کی ہے جس کو عمل کا پانی دیا جائے تو ایمان ترقی کرتا ہے یعنی ایمان کی مضبوطی کیلئے بار بار قربانیوں کی ضرورت ہے۔اس آیت میں جہاد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔جہاد کے معنی کوشش کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس کا قرب حاصل کرنے کیلئے اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ کوشش کئے جاؤ۔بدقسمتی سے جہاد کا لفظ مسلمانوں میں صرف مذہبی جنگوں کیلئے وقف ہو کر رہ گیا ہے حالانکہ قرآن مجید میں جنگ کے علاوہ تبلیغ اور نفس کی اصلاح کے معنی میں بھی یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔تین قسم کے جہاد کی طرف قرآن مجید راہ نمائی کرتا ہے جہاد اصغر۔جہادا کبر۔اور جہاد کبیر۔جہاد اصغر سے مراد وہی جہاد ہے جو عام طور پر اصطلاحی لحاظ سے بولا جاتا ہے یعنی جنگیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لڑی گئیں اور جن کیلئے بعض مخصوص شرائط ہیں ہر جنگ جہاد نہیں کہلا سکتی۔جہاد اکبر سے مراد نفس کا جہاد ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ سے واپس آئے تو آپ نے فرمایا :۔رَجَعْنَا مِنَ الجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلى الجِهادِ الأَكْبَرِ تاريخ بغداد للخطيب البغدادی صفحه 13) ہم چھوٹے جہاد یعنی جنگوں سے فارغ ہوئے ہیں اب ہم بڑا جہاد کریں گے یعنی نفوس کی تربیت۔سورۃ حج آیت 79 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَجَاهِدُوا فِي اللَّه حق جهاده ترجمہ:۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسی کوشش کرو جو بالکل مکمل ہو۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ جنگ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لئے پوری کوشش کرو ہمت نہ ہا ر و وہ طریقے اختیار کرو جن سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے وہ کام کرو جو ا سے پسندیدہ ہیں ان سے رُک جاؤ جنہیں وہ نا پسند کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوصیت میں فرماتے ہیں:۔ہر ایک راہ نیکی کی اختیار کرو نہ معلوم کس راہ سے تم قبول کئے جاؤ گے۔“ (روحانی خزائن جلد 20۔رسالہ الوصیت صفحہ 308)