خطابات مریم (جلد دوم) — Page 353
خطابات مریم 353 خطابات آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک کل انبیاء اسی غرض کے لئے مبعوث کئے گئے تھے کہ مردوں کو زندہ کریں اور اولوالعزم انبیاء کی صداقت پر کھنے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ ان کے ہاتھوں سے مردے زندہ ہوں (یعنی روحانی طور پر ) اور اگر کوئی یہ معجزہ نہ دکھا سکے تو اس کا دعویٰ نبوت ضرور مشکوک ہو جاتا ہے اور جو شخص اس قسم کے مردے زندہ کر کے دکھا دے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہے۔انوار العلوم جلد 7 دعوۃ الا میر صفحہ 582) کیا یہ زندگی کی علامت نہیں کہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی نظر نہیں آتا جو تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کے لئے اپنے گھر سے نکلا ہو لیکن ایک مٹھی بھر احمد یوں میں سے سینکڑوں اس کام پر لگے ہوئے ہیں اور ان ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو مسلمان بنارہے ہیں جن کی نسبت خیال بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ اسلام کا نام بھی سنیں گے۔( انوار العلوم جلد 7 صفحہ 586) حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں:۔غرض حضرت اقدس نے نہ صرف مردے ہی زندہ کئے بلکہ ایسے لوگ پیدا کر دیئے جو خود بھی مُردے زندہ کرنے والے ہیں اور یہ کام سوائے ان بزرگ انبیاء علیہم السلام کے جو اللہ تعالیٰ کے خاص پیارے ہوتے ہیں اور کوئی نہیں کر سکتا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب فیض آپ کو رسول کریم ﷺ سے ملا اور آپ کا کام در حقیقت رسول کریم ہے کا ہی کام تھا۔كُلُّ بَرَكَةٍ مِّن مُحَمَّدٍ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ (انوارالعلوم جلد 7 دعوۃ الامیر صفحہ 588) (الفضل 29 جنوری 1983ء)