خطابات مریم (جلد دوم) — Page 354
خطابات مریم 354 خطابات خطاب ممبرات لجنہ اماءاللہ برمنگھم محترمہ چھوٹی آپا حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے برطانیہ میں اپنے دورانِ قیام لجنہ اماءاللہ برمنگھم کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور آپ کے اعزاز میں دار البرکات مشن ہاؤس برمنگھم میں ایک مبارک تقریب منعقد ہوئی اس موقع پر حضرت سیدہ ممدوحہ نے اپنے اعلیٰ اور قیمتی خطاب سے نوازا جس کا مکمل متن مندرجہ ذیل ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔میری عزیز بہنو اور پیاری بچیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ جن جذبات کا آپ نے سپاسنامہ میں اظہار کیا ہے میں آپ سب کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔مجھے آپ سے مل کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے بظاہر میرا برمنگھم آنے کا موقع نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرما دیے کہ اپنی خواہش کے مطابق اور بہنوں کی خواہش کے مطابق میں یہاں ضرور آؤں مجھے اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا کر دی یہاں آنے کی۔ہر جگہ جہاں بھی جانا ہوا ہے مجھے بہنوں سے مل کر اپنی تنظیم کو ترقی کی راہوں پر گا مزن دیکھ کر بے انتہا دل کی گہرائیوں کے ساتھ زبان پر سب سے پہلے اللهم صلی علی محمد وعلى آل محمد کے الفاظ آتے ہیں کہ یہ اسلام کی نعمت ہمارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور اگر یہ نعمت ہمیں آپ کے ذریعے سے نہ ملتی ، آپ انسانیت تک اسلام کا پیغام نہ پہنچاتے تو پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہو رہا ہوتا۔ہم کہاں بھٹک رہے ہوتے تو سب سے پہلے تو خدا تعالیٰ جورب العالمین ہے جس نے انبیاء کو اس غرض سے بھیجا کہ اس دنیا میں صحیح اور سیدھا راستہ اپنے بندوں کو دکھا ئیں اور اللہ تعالیٰ سے بندوں کا تعلق پیدا کریں۔خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔پھر رسول پاک پر کثرت کے ساتھ درود بھیجتے رہنا چاہئے۔مجھے یقین ہے کہ آپ ضرور بھیجتی ہونگیں کیونکہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر رہ سکے۔لیکن بہت زیادہ درود