خطابات مریم (جلد دوم) — Page 352
خطابات مریم 352 خطابات غالباً 1915 ء یا 1916ء کی بات ہے کہ قادیان میں آل انڈیا سینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن کے سیکرٹری مسٹر ایچ اے والٹر آئے وہ کٹر عیسائی تھے اور سلسلہ احمدیہ کے متعلق کتاب لکھنا چاہتے تھے قادیان میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے ملے پھر قادیان کے ادارہ جات دیکھنے کے بعد خواہش کی کہ میں بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی پرانے صحبت یا فتہ عقیدتمند کو دیکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ مسجد مبارک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی منشی محمد اروڑ ا صاحب سے ان کی ملاقات کروائی گئی مسٹر والٹر نے منشی صاحب سے پوچھا کہ آپ مرزا صاحب کو کب سے جانتے ہیں اور آپ نے ان کو کس دلیل سے مانا اور ان کی کس بات نے آپ پر زیادہ اثر کیا۔منشی صاحب نے جواب میں بڑی سادگی سے کہا:۔میں حضرت صاحب کو ان کے دعوی سے پہلے کا جانتا ہوں میں نے ایسا پاک اور نورانی انسان کوئی نہیں دیکھا ان کا نور اور ان کی مقناطیسی شخصیت ہی میرے لئے ان کی سب سے بڑی دلیل تھی ہم تو ان کے منہ کے بھوکے تھے“۔یہ کہہ کر حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد میں بے چین ہو کر رونے لگے جیسے ایک بچہ اپنی ماں کی جدائی میں پلک پلک کر روتا ہے۔اس وقت مسٹر والٹر کا یہ حال تھا کہ یہ نظارہ دیکھ کر ان کا رنگ سفید پڑ گیا اور وہ حیرت سے منشی صاحب کی طرف دیکھتے رہے بعد میں اُنہوں نے اپنی کتاب احمدیہ موومنٹ میں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مرزا صاحب کو ہم غلطی خوردہ کہہ سکتے ہیں مگر جس شخص کی صحبت نے اپنے مریدوں پر ایسا گہرا اثر پیدا کیا ہے اسے ہم دھوکہ باز ہرگز نہیں کہہ سکتے۔آپ کی پاک صحبت نے حضرت مولانا نورالدین صاحب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف جیسے فدائی پیدا کئے۔اللهم صل على محمد وعلى آل محمد وعلى عبدك المسيح الموعود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنی تصنیف دعوۃ الا میر میں جو آپ نے امیر امان اللہ والی کابل کو مخاطب کر کے تحریر فرمائی تھی اور جس میں حضرت مسیح موعود کی صداقت کے بارہ میں دلائل بیان فرمائے ہیں حضرت مسیح موعود کی صداقت کی بارہویں دلیل آپ کی قوتِ احیاء کی دی ہے آپ فرماتے ہیں :۔