خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 350 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 350

خطابات مریم 350 خطابات محبت سے پوچھا کیوں اُٹھ بیٹھے اُنہوں نے پاس ادب کا غذر کیا اس پر حضور فرماتے ہیں:۔میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا لڑ کے شور کرتے تھے۔انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 310) ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا:۔” میرا ہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس کے لئے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذراسی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پر ہیزی کھانا کھانا پڑا پھر وہ التزام نہ رہا۔ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہوگئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لئے مجبوری علیحدگی ہوئی۔ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے۔بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے“۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 292) حضرت مسیح موعود میں کمال درجہ کا تحمل اور برداشت کا مادہ پایا جا تا تھا آپ فرمایا کرتے تھے کہ:۔لوگوں کی گالیوں سے ہمارا نفس جوش میں نہیں آتا “۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 6) آپ فرماتے تھے میں سب کے لئے دعا کرتا ہوں۔(اول) اپنے نفس کیلئے ( دوم ) اپنے گھر والوں کیلئے (سوم) اپنے بچوں کیلئے (چہارم ) اپنے خلص دوستوں کیلئے نام بنام ( پنجم) اور پھر ان سب کے لئے جو اس سلسلہ سے وابستہ ہیں خواہ ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 309) آپ نے نوع انسان سے ہمدردی کی تعلیم دی اور بار ہا فرمایا یا درکھو کہ :۔” خدا تعالیٰ کے دو حکم ہیں اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور دوسرے نوع انسان سے ہمدردی کرو اور احسان سے یہ مراد نہیں کہ اپنے بھائیوں اور رشتے داروں ہی سے کرو بلکہ کوئی ہو آدم زاد ہو اور خدا تعالیٰ کی مخلوق میں کوئی بھی ہومت