خطابات مریم (جلد دوم) — Page 351
خطابات مریم 351 خطابات خیال کرو وہ ہندو ہے یا عیسائی“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 130) آپ کو اپنے نفس پر اتنا قا بو تھا کہ فرمایا: - میں اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے میرے نفس کو گندی سے گندی گالیاں دیتا رہے آخر وہی شرمندہ ہوگا اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اُکھاڑ نہ سکا۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 302) حضرت اقدس سرا پا شفقت و رحمت تھے۔اربعین میں فرماتے ہیں:۔میں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے میں بنی نوع انسان سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔میں صرف ان باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بد عملی اور نا انصافی اور بداخلاقی سے بے زاری میرا اصول“۔(روحانی خزائن جلد 17 اربعین نمبر 1 صفحہ 344) یہ صرف زبانی دعوی نہ تھا حضرت مولوی عبد الکریم سے روایت ہے جن دنوں پنجاب میں طاعون کا زور تھا آپ نے حضرت مسیح موعود کو علیحدگی میں دعا کرتے سنا۔آپ ان الفاظ میں نہایت ہی درد سے دعا کر رہے تھے کہ :۔الہی اگر یہ لوگ طاعون کے عذاب سے ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کون کرے گا“۔(سیرت حضرت مسیح موعو دمرتبه شیخ یعقوب عرفانی ) یہ ویسی ہی دعا تھی جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ میں اپنے ربّ سے مانگی تھی کہ اے اللہ اگر یہ تھوڑے سے لوگ بھی ہلاک ہو گئے تو تیری عبادت کون کرے گا۔غرض آپ کی محبت اور حسن و احسان کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کے ماننے والوں کے دل میں آپ کی بے حد محبت تھی وہ پروانے تھے آپ کے اور آپ کی پاک صحبت نے ان میں ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کر دی۔